جنوبی وزیرستان لوئر کا سب سے بڑا طبی مرکز، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال وانا، ایک سنگین مالی بحران میں مبتلا ہے۔ جدید عمارت، بہتر انفراسٹرکچر اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے کے باوجود، یہ اسپتال گزشتہ 10 ماہ سے فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث مکمل طور پر مفلوج ہوتا جا رہا ہے۔ اسپتال کے 33 کروڑ روپے کے واجبات تاحال ادا نہیں کیے گئے، جبکہ ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ کئی ماہ سے تنخواہوں کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری اسپتال لیڈی ریڈنگ کے روم چارجز 10 ہزار روپے مقرر، اصل ماجرا کیا ہے؟

ہیلتھ منیجر ڈی ایچ کیو وانا جان محمد نے بتایا کہ ہماری تنخواہیں گزشتہ 10 ماہ سے بند ہیں۔ عملہ شدید مالی مشکلات سے دوچار ہے، مگر ہم مریضوں کی خدمت کے جذبے سے کام کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی۔

صحت کی سہولیات بہتر، مگر فنڈز کی بندش خطرہ بن گئی

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت 2022 میں اسپتال کا انتظام ایک غیر سرکاری تنظیم کے سپرد کیا گیا تھا، جس کے بعد سے علاج کی سہولیات میں نمایاں بہتری آئی۔ اسپتال میں روزانہ 800 سے 1 ہزار مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور سرجری، گائنی سمیت دیگر اہم شعبے مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔

تاہم، فنڈز کی بندش نے اس ترقی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ عملے کو خدشہ ہے کہ اگر بروقت ادائیگیاں نہ کی گئیں تو اسپتال کی خدمات مزید محدود ہو سکتی ہیں اور کئی اہم شعبے بند ہو سکتے ہیں، جس سے لاکھوں شہری متاثر ہوں گے۔

3 اسپتال متاثر، ہزاروں مریض مشکلات کا شکار

صرف ڈی ایچ کیو وانا ہی نہیں، بلکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جنوبی وزیرستان لوئر میں چلنے والے تینوں بڑے اسپتال اس مالی بحران کا شکار ہیں۔ ان میں شیخ فاطمہ اسپتال شولام اور تحصیل توئی خلہ اسپتال شامل ہیں، جو بالترتیب ٹی سی پی کے زیر انتظام ہیں۔

ان اسپتالوں میں بہتری کے بعد مریضوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی ہے، لیکن مالی عدم استحکام نے اس نظام کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 8500 پر شناختی کارڈ نمبر بھیجیں اور صحت کارڈ پروگرام سے فائدہ اٹھائیں، ارشد قائم خانی

شہریوں کا کہنا ہے کہ یہاں علاج کی سہولتیں موجود ہیں، مگر جب عملے کو تنخواہیں نہیں ملتیں تو سروسز بھی متاثر ہوتی ہیں۔

حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ

مقامی قبائلی عمائدین، سیاسی نمائندوں اور شہریوں نے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا اور خیبرپختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے کہ اسپتالوں کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں، عملے کو تنخواہیں ادا کی جائیں اور صحت کے اس اہم نظام کو تباہی سے بچایا جاسکے۔

ہیلتھ منیجر جان محمد کا کہنا ہے کہ ہم نے متعدد بار اعلیٰ حکام کو صورتِ حال سے آگاہ کیا، مگر ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ قیمتی انسانی جانیں متاثر ہوں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news جان محمد خیبرپختونخوا ڈسٹرکٹ اسپتال ڈی ایچ کیو اسپتال وانا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا ڈسٹرکٹ اسپتال ڈی ایچ کیو اسپتال وانا ڈی ایچ کیو ماہ سے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق