دنیا کے ایسے ملک میں پہلی بار مچھر دریافت جہاں آج تک انہیں دیکھا نہیں گیا تھا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مچھر وہ کیڑے ہیں جو ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرتے ہیں۔ تاہم زمین کے دو خطے — براعظم انٹارکٹیکا اور یورپی ملک آئس لینڈ — ایسے تھے جہاں اب تک مچھر نہیں پائے گئے تھے۔ مگر اب تاریخ میں پہلی بار آئس لینڈ میں مچھروں کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت نے اس سرد ترین ملک کو بھی ان کیڑوں کے لیے قابلِ رہائش بنا دیا ہے۔
سائنسدانوں نے کچھ عرصہ قبل پیشگوئی کی تھی کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث آئس لینڈ میں مچھر جلد ظاہر ہوسکتے ہیں، تاہم ان کا خیال تھا کہ ملک کا سخت اور طویل سرد موسم ان کے زندہ رہنے کے لیے موزوں نہیں ہوگا۔ لیکن اب وہاں کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے یہ صورتحال بدل دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق آئس لینڈ میں درجہ حرارت شمالی نصف کرے کے دیگر ممالک کی نسبت تقریباً چار گنا تیزی سے بڑھ رہا ہے، گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، اور گرم پانیوں میں پائی جانے والی مچھلیوں کی نئی اقسام بھی وہاں دیکھی جا رہی ہیں۔
نیچرل سائنس انسٹیٹیوٹ آف آئس لینڈ کے ماہر میتھائس الفروسن نے مچھروں کی موجودگی کی تصدیق کی اور بتایا کہ انہوں نے خود آئس لینڈ کے علاقے Kiðafell میں مچھروں کی تین مختلف اقسام کو شناخت کیا ہے۔ یہ تمام اقسام عام طور پر سرد خطوں میں پائی جاتی ہیں اور بظاہر آئس لینڈ کے بدلتے موسم میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اب تک یہ واضح نہیں کہ یہ مچھر وہاں تک کیسے پہنچے، مگر ماہرین کا خیال ہے کہ وہ ممکنہ طور پر بحری جہازوں یا کارگو کنٹینرز کے ذریعے آئس لینڈ پہنچے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئس لینڈ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔