پاکستان سے جنگ نہیں ہونی چاہیے، امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم کو خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
پاکستان سے جنگ نہیں ہونی چاہیے، امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم کو خبردار کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 22 October, 2025 سب نیوز
واشنگٹن(سب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے جنگ نہیں ہونی چاہیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیوالی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نریندر مودی سے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی
تجارت سمیت کئی اہم امور پر بات چیت کی گئی، تجارت کے ذریعے معاملات حل کر رہا ہوں، بھارت روس سے مزید تیل نہیں خریدے گا۔وائٹ ہاوس میں تقریب سے خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوائی، پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، پاک بھارت جنگ میں7 طیارے گرائے گئے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ میں اب تک 8 جنگیں رکوا چکا ہوں، زیادہ تر جنگیں تجارت کے ذریعے رکوائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کی اسرائیل کی جانب سے غزہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کی شدید مذمت پاکستان کی اسرائیل کی جانب سے غزہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کی شدید مذمت سربراہ پاک فضائیہ ظہیر بابر سدھو کا دورہ رومانیہ، دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال باجوڑ، سیکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں ایک دہشتگرد ہلاک، متعدد زخمی حالت میں فرار نجی مال میں خاتون کیساتھ مبینہ زیادتی کا معاملہ ، ملزمان نے اعتراف جرم کر لیا دالبندین میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 6دہشتگرد ہلاک بلدیاتی انتخابات: الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے ڈیٹا اور نقشے مانگ لیےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی صدر
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔