Jasarat News:
2026-06-03@04:45:29 GMT

سندھ پبلک سروس کمیشن کرپشن کا گڑھ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سندھ پبلک سروس کمیشن جو اعلیٰ سرکاری ملازمین کا چنائو کرتا ہے اس نے 20024-25 کو اخبارات میں گزٹڈ آسامیوں کی بھرتی کے لیے اشتہار دیا جس پر سکرنڈ کے اویس دانش خانزادہ نے حساب کی لیکچرر شپ کے لیے درخواست جمع کرائی، 13-2-2025 کو تحریری امتحان ہوا جس کا نتیجہ دوسرے دن آیا تو اویس دانش 65 فی صد نمبر لے کر کامیاب قرار پایا 12- 5-2025 کو اس کا کراچی میں انٹرویو ہوا، جس کے بعد کامیاب امیدواروں کا نتیجہ 18-6-2025 کو شائع ہوا تو اس کا نام کامیاب امیدواروں میں نہ تھا جب کہ اس کے بقول اس کے تمام جوابات درست تھے اس نے 161 دفعہ کے تحت 24-6-25 کو سندھ پبلک سروس کمیشن میں درخواست دی کہ نمبر بتائے اور انٹرویو دکھایا جائے اس درخواست پر 15 دن میں پبلک سروس کمیشن کو عمل کرنا ہوتا ہے مگر اس نے اس درخواست کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دی گئی، جواب نہ ملنے پر اویس دانش نے سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد میں اپیل نمبر 1392 دائر کی جس پر عدالت نے پبلک سروس کمیشن کو 15 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا مگر اس کی بھی تعمیل نہ ہوئی تو درخواست گزار نے توہین عدالت کی درخواست ہائی کورٹ حیدر آباد میں دی کہ رزلٹ اور ویڈیو انٹرویو عدالت میں آکر دکھایا جائے عدالت نے 16 اکتوبر کو چیئرمین اور سیکرٹری کو ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم جاری کیا تو سیکرٹری حاضر ہوئے اور چیئرمین کی علالت کا سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا۔ اویس دانش خانزادہ کا کہنا ہے کہ پہلے دیہی لڑکوں کے لیے پاسنگ مارکس 50 اور لڑکیوں کے 42 تھے پھر یکایک تبدیل کر کے لڑکوں کے لیے 56 اور لڑکیوں کے لیے 35 کردیے گئے اور یوں ہی اشفاق سیٹ نمبر 270025 اور زینب سیٹ نمبر282777 جو شہری درخواست گزار تھے تبدیل کر کے انہیں دیہی رزلٹ میں کرکے اور دنیا گل کے 33 نمبر کو بڑھا 35 کرکے پاس کردیا گیا خانزادہ اویس دانش کے مقدمہ کی پیروی سینئر وکیل جواد قریشی کر رہے ہیں۔ یہ مقدمہ جو اب عدالت کے سپرد ہے اس میں سندھ پبلک سروس کمیشن کی نااہلی کا پہلو نمایاں ہے اور اس کی بھرتیوں پر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں انکوائری ہوتی رہی ہیں مگر مبینہ طور پر یہ بااثر سیاسی افراد اعلیٰ بیوروکریسی اور مال کی منڈی بنی ہوئی ہے سو سوائے چند تبدیلوں کے کچھ نہیں بگڑتا اس کے متعلق یہ جملہ مشہور ہے پیسہ پھینک تماشا دیکھ اب کیا ہوتا ہے عدالت اٹھائے ہوئے سوالات پر کیا فیصلہ کرتی ہے بھلا جو پبلک سروس کمیشن کرپشن کے موذی مرض میں مبتلا بتایا جائے اس کی نظر انتخاب میرٹ کے بجائے کوئی اور ہو تو پھر ملک اور قوم کا بیڑہ غرق ہی ہوگا۔ کہتے ہیں کہ دلالوں کا گروہ لاکھوں کروڑوں میں نوکری کی ضمانت پتا نہیں کیسے دیتا ہے؟؟

سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید ذین شاہ نے سکرنڈ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کرپشن کاگڑھ بن گیا ہے اس بورڈ کے چیئرمین اور ارکان کا سلیکشن ہی صحیح نہیں اس کا حال برا ہے ہم نے حیدرآباد اور کراچی میں اس کی زبوں حالی پر کانفرنسیں کرائیں جس میں اہل نظر دانشور شریک ہوئے اور احوال اور اصلاح پر روشنی ڈالی اور تجاویز دیں مگر کوشنوائی نہ ہوئی اس وجہ سے نوجوان نسل تعلیم کی طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔

عبدالتواب شیخ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ پبلک سروس کمیشن اویس دانش کے لیے

پڑھیں:

اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی  کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔ 

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم  دیدیا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی  کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔ 

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے  5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

مزید :

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی