بنگلادیش میں پہلی بار فوجی افسران کو قید کی سزا سنا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
بنگلادیش کی ایک عدالت نے 15 اعلیٰ فوجی افسران کو جبری گمشدگیوں اور 2024 کے عوامی انقلاب کے دوران ہونے والے مظالم کے الزام میں قید کی سزا سنادی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ بنگلا دیش میں جبری گمشدگیوں کے لیے باضابطہ الزامات عائد کیے گئے ہیں اور پہلی بار اتنی تعداد میں اعلیٰ فوجی حکام کو شہری مقدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پانچ جرنیلوں سمیت ان افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے دور میں خفیہ غیرقانونی حراستی مرکز قائم کر رکھا تھا۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 1,400 تک لوگ اس وقت ہلاک ہوگئے جب سیکورٹی فورسز نے حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے کی کوشش کی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے ایک بیان میں کہا کہ عدالتی عمل احتساب کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔
حسینہ واجد کی حکمرانی کے دوران راپیڈ ایکشن بٹالین فورسز متعدد ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے۔ اس تنظیم پر 2021 میں امریکا نے پابندی بھی عائد کررکھی تھی۔
تاہم دوسری جانب وکیل دفاع سرور حسین نے افسران پر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان افسران کو اپنی بے گناہی کا یقین ہے، اور انہیں مناسب عدالتی عمل کے ذریعے رہا کر دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔