صوبائی دارالحکومت میں اشتہاریوں، عادی ملزمان و عدالتی مفروران کے خلاف اسپیشل آپریشن
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں اشتہاریوں، عادی ملزمان و عدالتی مفروران کے خلاف اسپیشل آپریشن جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان ڈولفن نے بتایا کہ 72 گھنٹے کے دوران اشتہاریوں، عدالتی مفروران اور عادی ملزمان کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
ایس پی ڈولفن اختر نواز نے بتایا کہ 43 اشتہاریوں سمیت مختلف مقدمات میں مطلوب 345 ملزمان گرفتار کیے گئے جبکہ گرفتار ملزمان پر سنگین جرائم کے متعدد مقدمات درج ہیں۔
ڈولفن اسکواڈ نے 194 ریکارڈ یافتہ، 74 عادی مجرمان کو حراست میں لیا اورمختلف زیر سماعت مقدمات میں 34 عدالتی مفروران بھی گرفتار کئے گئے۔ ڈولفن سکواڈ نے گرفتار ملزمان کو کارروائی کیلئے متعلقہ تھانوں کے حوالے کر دیا ہے۔
ایس پی نے بتایا کہ شہر میں امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ہمہ وقت الرٹ ہیں۔ اشتہاریوں، عادی ملزمان و عدالتی مفروران کیخلاف اسپیشل ٹارگٹڈ آپریشن جاری رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عدالتی مفروران
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔