پاکستان کی وائٹ بال سیریز کیلئے سکواڈز کا اعلان، ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کیلئے 15 رکنی اور ون ڈے کیلئے 16 رکنی سکواڈ کا اعلان۔ بابر اعظم کی ٹی ٹوئنٹی میں واپسی۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز 28 اکتوبر سے یکم نومبر تک کھیلی جائے گی۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز فیصل آباد میں 4 سے 8 نومبر تک کھیلی جائے گی۔ سری لنکا اور زمبابوے کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی تین ملکی سیریز 17 سے 29 نومبر تک راولپنڈی اور لاہور میں کھیلی جائے گی۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے انٹرنیشنل سیریز 11 سے 15 نومبر تک راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلی جائے گی۔ عثمان طارق پہلی بار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سکواڈ میں شامل۔ عبدالصمد، بابر اعظم اور نسیم شاہ کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔ فیصل اکرم، حارث رؤف اور حسیب اللہ کی ون ڈے سکواڈ میں واپسی ہوئی ہے۔ سلمان علی آغا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اور شاہین شاہ آفریدی ون ڈے انٹرنیشنل ٹیم کی قیادت کریں گے۔ ٹی ٹوئنٹی سکواڈ سلمان علی آغا (کپتان)، عبدالصمد، ابرار احمد، بابر اعظم، فہیم اشرف، حسن نواز، محمد نواز، محمد وسیم جونیئر، محمد سلمان مرزا، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان (وکٹ کیپر)، صائم ایوب، شاہین شاہ آفریدی، عثمان خان (وکٹ کیپر)، عثمان طارق.

ریزرو کھلاڑی فخر زمان، حارث رؤف، سفیان مقیم ون ڈے سکواڈ شاہین شاہ آفریدی (کپتان)، ابرار احمد، بابر اعظم، فہیم اشرف، فیصل اکرم، فخر زمان، حارث رؤف، حسیب اللہ، حسن نواز، حسین طلعت، محمد نواز، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، محمد وسیم جونیئر، نسیم شاہ، صائم ایوب، سلمان علی آغا

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟

پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔

تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:

البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔

’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4  ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘

مزید پڑھیں:

گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

’اگر ہفتے میں 2  دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘

ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔

گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔

’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی اوپنرعبداللہ فضل ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر
  • ایچ آئی وی غفلت پر کسی سے کوئی رعایت نہیں بلاتفریق ایکشن ہوگا، وزیر محنت سندھ
  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم