اسرائیل کی جانب سے غزہ خالی کرانے کی نئی سازش کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
جنوبی افریقہ نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ اسرائیل فلسطینیوں کے لیے اس ملک کے قلیل مدتی ویزے کا غلط فائدہ اٹھا رہا تھا تاکہ غزہ کے رہائشیوں کو جنوبی افریقہ منتقل کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ جنوبی افریقہ نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ اسرائیل فلسطینیوں کے لیے اس ملک کے قلیل مدتی ویزے کا غلط فائدہ اٹھا رہا تھا تاکہ غزہ کے رہائشیوں کو جنوبی افریقہ منتقل کیا جا سکے۔ فارس نیوز کے مطابق، جنوبی افریقہ کے وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کیا کہ فلسطینیوں کے لیے 90 دن کے ویزے کی معافی کو منسوخ کر دیا گیا ہے، کیونکہ اس منصوبے کا اسرائیل نے غلط استعمال کیا۔ راشاتودی کے مطابق، اس بیان میں کہا گیا کہ اس ملک کے سیکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کی تحقیقات نے 90 دن کے ویزے کی معافی کے حامل عام فلسطینی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے جان بوجھ کر اور مسلسل غلط استعمال کا انکشاف کیا، جو اسرائیلی عوامل کے ذریعے رضاکارانہ ہجرت کی کوششوں کے لیے غزہ کے رہائشیوں کو منتقل کرنے میں استعمال کیا گیا۔
قلیل مدتی ویزا کی معافیاں دنیا کے مختلف ممالک میں سیاحت اور مختصر دوروں کی حوصلہ افزائی کے لیے عام طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ تاہم، جنوبی افریقہ نے کہا کہ حالیہ دو چارٹر پروازوں کی تحقیقات نے اس معافی کا منظم غلط استعمال ظاہر کیا، جس میں سفر نہ تو سیاحت کے لیے تھا اور نہ ہی مختصر قیام کے لیے، بلکہ فلسطینیوں کو غزہ سے منتقل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ معمول کی تجارتی پروازوں کے بجائے، پورے ہوائی جہاز مسافروں نے نہیں بلکہ واسطہ کاروں نے کرائے پر لیے۔ زیادہ تر مسافروں کو جنوبی افریقہ کے لیے ایک طرفہ ٹکٹ دیا گیا اور انہیں اپنا سامان لے جانے سے منع کیا گیا۔ اس سے قبل بھی اسرائیلی حکام نے بارہا قابض علاقوں سے فلسطینیوں کو زبردستی منتقل کرنے کی کوشش کی تھی، جو سب ناکام رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنوبی افریقہ کے لیے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔