اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزارت مذہبی امور نے گذشتہ سال فریضہ حج ادا کرنے والے 66 ہزار 377 حاجیوں کو 3 ارب 45 کروڑ 65 لاکھ 85 ہزار روپے واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے، رقوم کی منتقلی کا عمل حاجیوں کے بینک اکاﺅنٹس میں 31 اکتوبر تک مکمل کر لیا جائے گا، حج 2026ءکیلئے 40 دن کے حج پیکیج کی رقم 11 لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ 25 دن کے شارٹ حج کا پیکیج 12 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق  وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے وزارت مذہبی امور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت مذہبی امور اور حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ حج اخراجات کو ممکنہ حد تک کم سے کم رکھا جائے اور حج انتظامات کو بہتر بنایا جائے۔گذشتہ سال عازمین حج کو سعودی عرب میں قدم قدم پر رہنمائی فراہم کرنے کیلئے حج ناظم کی سکیم منظور کی گئی، حاجیوں کے گروپ پر ایک ناظم مقرر کیا گیا۔  حج 2025ءکے دوران رہائشی عمارتوں، کھانے پینے، ٹرانسپورٹ سمیت دیگر معاملات میں تقریباً ساڑھے تین ارب روپے کی بچت کی گئی، یہ رقم حاجیوں کو واپس کی جا رہی ہے۔

کینیڈین ہائی کمیشن کے زیرِ اہتمام میڈیا لٹریسی اور ڈیجیٹل ریزیلیئنس کے فروغ کے لیے سٹریٹجک ڈائیلاگ 

این این آئی کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ گزشتہ سال فریضہ حج ادا کرنے والے 12 ہزار 286 حاجیوں کو 12 ہزار فی کس، 13 ہزار 939 حاجیوں کو 25 ہزار، 8 ہزار 496 حاجیوں کو 48 ہزار، 20 ہزار 302 حاجیوں کو 75 ہزار، 10 ہزار 945 حاجیوں کو 90 ہزار اور 400 حاجیوں کو 1 لاکھ 10 ہزار فی کس کے حساب سے رقم واپس کی جا رہی ہے اور 31 اکتوبر تک رقوم کی واپسی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ جن حاجیوں کو رقم واپس نہیں کی گئی انہوں نے حجاز مقدس میں فراہم کی گئی تمام سہولیات سے مکمل استفادہ کر لیا تھا، جن لوگوں کو رقم واپس کی گئی ہے یہ لوگ رہائشی عمارتوں، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات سے مکمل استفادہ نہیں کر سکے تھے۔حج 2026ء کے موقع پر بھی حاجیوں کو سفری بیگ اور سعودی کمپنی کی موبائل فون سم دی جائے گی جس میں انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ 300 سے 600 تک فون کالز کی سہولت بھی میسر ہو گی۔

دنیا کے سب سے بہترین کرنٹ کرکٹر ویرات کوہلی نے صفر پر آؤٹ ہونے کا نا پسندیدہ ریکارڈ قائم کردیا

وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ حج تربیت کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے، حج 2026ءکیلئے پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 40 دن کے حج کا پیکیج 11 لاکھ 50 ہزار اور 25 دن کے حج کا پیکیج 12 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، اس طرح سرکاری سکیم کے تمام درخواست گزاروں کو ساڑھے 6 لاکھ روپے کی دوسری قسط جمع کرانا ہو گی۔ہم نے سعودی تعلیمات کے مطابق حج انتظامات کیے ہیں، پرائیویٹ اسکیم کے تحت بھی حج کوٹہ پر تقریباً بکنگ مکمل ہو گئی ہے، وزارت مذہبی امور کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو حج کی سعادت نصیب ہو۔

آسٹریلیا نے بھارت کو پھر دھول چٹا دی

ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر عطاء الرحمن نے کہا کہ گذشتہ سال حج کے موقع پر منیٰ اور عرفات میں چائے تک فراہم کی گئی، تمام حاجیوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر تھی، جو شکایات سامنے آتی ہیں ان پر کارروائی کرکے ان کا ازالہ بھی کیا جاتا ہے۔ طبی سہولت کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاہم کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا اور شدید بیمار شخص کو حج پر نہیں جانا چاہیے.

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم