آئی ایم ایف مذاکرات کے معیشت پر اثرات
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
گزشتہ دنوں اسلام آباد میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات ہوئے تھے۔ میز کے ایک طرف پاکستان اور دوسری طرف وہ ادارہ بیٹھا تھا جسے دنیا آئی ایم ایف کہتی ہے یعنی دنیا کا وہ خزانچی جوکہ کمزور معیشتوں کو ڈالر دکھاتا ہے اور اصلاحات کے دعوے لیتا ہے۔ ان کو اپنی شرائط میں باندھتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مذاکرات ترقی پذیر ممالک کے ساتھ اعداد و شمار کی روشنی میں نہیں بلکہ اپنی مرضی کے مطابق ہو رہے تھے۔
اس وقت کے معاشی حالات اور اعداد و شمار جوکہ سیلاب میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ 50 لاکھ آبادی سے زائد سیلاب متاثرین ہیں، لیکن حال کے بجائے مستقبل کا سوال تھا کہ پاکستان مستقبل کی معیشت کن اصولوں پر کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ مالیاتی ادارے کے وفد نے ایک مسکراہٹ بکھیری اور کہا پاکستان استحکام کی راہ پر ہے، لیکن اس فقرے کے پیچھے بہت ہی ہولناک شرائط بھی تھیں یعنی ٹیکس بڑھانا ہوگا، توانائی کی قیمت درست کرنی ہوگی۔
گویا اصلاحات کی ندی میں اتر جائیں بغیر لائف جیکٹ کے۔ ڈالر کو قدرتی لہروں کے حوالے کر دو، ان کی محبوب کرنسی ہر حد، شرط اور پابندی سے پاک کردی جائے۔
مزدور کی مزدوری، کسان کے قرض، شہریوں پر قرض کا بوجھ مہنگائی کے بڑھتے رہنے پر دھیان نہیں دیا گیا کہ جب ڈالر کو آزاد چھوڑ دیں گے تو ایسی صورت میں ڈالر کو پَر لگ جائیں گے تو مہنگائی بھی مزید بڑھ جائے گی۔ ایک طرف بجلی، گیس کے بل ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اگر ڈالر کو مارکیٹ کے حوالے کر دیا گیا تو اس سے پہلے بھی بارہا تجربے ہوتے رہے، پہلے آئی ایم ایف کا مطالبہ ہوتا تھا کہ روپے کی قدر 10 فی صد یا 12 فی صد گرا دی جائے یعنی ڈالر کی قیمت کو بڑھا دیا جائے ان دنوں یہ تاویل دی جاتی تھی کہ برآمدات میں اضافہ ہوگا۔
کسان سوچتا ہے کہ کھاد مہنگی ہوتی جا رہی ہے، پٹرول مہنگا ہو رہا ہے، بیج کی خبر نہیں اصلی ہے یا نقلی، پھر بھی مہنگا ترین۔ بجلی کے بل کے سلسلے میں عام شہری مزدور کسان دفتر کا بابو سب کے سامنے ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ بجلی کے بل کیسے بھروں۔ لیکن ترقی پذیر ممالک کے افق پر بھی اسی قسم کے منظرنامے ہیں، جو بھی عالمی مالیاتی ادارے کا اسیر بن جاتا ہے، اس ملک کی کہانی پاکستان سے ملتی جلتی بن کر رہ جاتی ہے۔ تیسری دنیا یا ترقی پذیر ممالک میں ہر جگہ غربت ہے، ترقی کا نشان کم ہے قرض زیادہ، قرض اتارنے کی صلاحیت کم ہے۔
مشہور و معروف ماہرین معاشیات کا یہی خیال ہے کہ اصلاحات جب ہی کامیاب ہوتی ہیں جب غریبوں کو رعایت دی جائے نہ اعداد و شمار کو مدنظر رکھ کر۔ اس قسم کے معاہدے اصلاحات صرف انسانوں کے لیے ہوں نہ کہ اعداد و شمار کے کرتب دکھانے کے لیے، غربت مٹانے کے لیے ہوں۔ بھوک ختم کرنے کے لیے ہوں، ترقی کے سفر پرگامزن ہونے کے لیے ہوں نہ کہ آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لیے۔ اگر سرکاری بدانتظامی، کرپشن، بجلی چوری، ذخیرہ اندوزی، اقربا پروری اور بہت سی برائیوں کا قلع قمع نہ کر پائے تو تمام اصلاحات کے نتیجے میں بے روزگاری آئے گی، غربت میں اضافہ ہوگا۔
حالیہ مذاکرات پر آئی ایم ایف پاکستان کی تعریف کرتا ہے کہ پاکستان کا پروگرام میکرو استحکام کے قیام اور مارکیٹ اعتماد بحال کرنے کی راہ پر ہے۔ حالیہ سیلاب کے تناظر میں پاکستان کو اصلاح دی گئی ہے کہ اپنے ذرائع سے حالات سے نمٹ لے اور آیندہ کے لیے بھی نمٹنے کے لیے اقدامات کرے۔
اتنے بڑے پیمانے پر سیلاب کے آنے کے بعد معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس سے نمٹنے کے لیے بڑی رقم درکار ہوگی جوکہ بلاسود اور بلا شرط ملنی چاہیے، لیکن اس وقت پاکستان کو جو رقم ملنے کی راہ ہموار ہوئی ہے وہ جولائی 2024 میں طے ہونے والے 7 ارب ڈالر کی سہولت سے متعلق ہے جس پر بھی سود ادا کیا جائے گا، اس رقم میں سے 1.
پاکستان کا شہری پہلے ہی ساڑھے تین لاکھ کے قرض تلے دبا ہوا ہے جو مختلف حکومتوں نے یہ رقوم حاصل کی تھیں، مختلف حکومتوں نے اپنے دور میں جو بھی رقم بطور قرض حاصل کیں، اب اس پر سود اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ بجٹ کی بڑی رقم کو ہڑپ کیے چلا جا رہا ہے جس کے نقصانات ظاہر ہو رہے ہیں صرف اتنی سہولت ملے گی کہ پاکستان کو اپنی ضرورت کے کچھ امور طے کرنے میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔
جب کہ جس قسم کے اصلاحی پروگرام کا ہدف دیا گیا ہے اگر اس ہدف کا رخ اشرافیہ کی طرف موڑ دیا جائے تو غریب عوام پر بوجھ میں قدرے کمی آ سکتی ہے۔ مثلاً ٹیکس کی رقوم میں اضافہ، اس مد کے تحت اگر ہدف صرف اشرافیہ کو بنایا جائے تو اس سلسلے میں خاصی رقوم اکٹھی کی جا سکتی ہیں۔ ڈالر ریٹ بڑھنے سے امپورٹ بل پر خاصا دباؤ آئے گا جس کے لیے ضروری ہے کہ تمام تر غیر ضروری اور اشیائے تعیش پر جزوی یا کسی گروپ یا کسی قسم کی اشیا کی امپورٹ پر کلی پابندی عائد کر دی جائے لیکن اس سلسلے میں یہ قباحت پیدا ہو سکتی ہے کہ بعض اقدامات آئی ایم ایف کو ناگوار بھی گزر سکتے ہیں کیونکہ ابھی تک تمام معاملات طے ہونے کے بعد بھی آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری ابھی باقی ہے۔ بہت سی شرائط ایسی ہیں جن سے عوام پر ہی دباؤ کے بڑھنے کے امکانات ہیں۔
ان تمام باتوں کے باوجود یہ مجبوری ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کی جائے ساتھ ہی حکومت کو غریبوں پر دباؤ یا یہ کہ ایسے اقدامات جس سے مزید افراد غربت کی سطح سے نیچے چلے جائیں۔
حکومت کو اپنے طور پر کئی فلاحی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوگی۔ کوشش یہ کرنا کہ عوام پر ٹیکس کا بوجھ بڑھنے کے بجائے اشرافیہ کی جانب رخ کیا جائے۔ فیکٹری کارخانے جوکہ بند ہو رہے ہیں ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے کارخانے مزید کھل جائیں اور بند ہونے کا سلسلہ ختم ہو جائے۔ بعض اوقات غیر ملکی سرمایہ کاری اس لیے نہیں ہو پاتی کہ اس پر سرکاری سرخ فیتا سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے لہٰذا ان افراد پر کچھ پابندی ہونی چاہیے جوکہ کارخانوں کے قیام میں رکاوٹ کا سبب بن جاتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف کے لیے ہوں اضافہ ہو ڈالر کو
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :