سعودی عرب سے متعلق توہین آمیز بیان پر انتہا پسند اسرائیلی وزیر نے معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
سعودی عرب سے متعلق توہین آمیز بیان پر انتہا پسند اسرائیلی وزیر نے معافی مانگ لی WhatsAppFacebookTwitter 0 24 October, 2025 سب نیوز
انتہا پسند اسرائیلی وزیر خزانہ نے سعودی عرب سے متعلق اپنے بیان کو ’نامناسب‘ تسلیم کرلیا
اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ بیزلیل سموتریچ نے سعودی عرب سے متعلق اپنے ’نامناسب‘ بیان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیزلیل سموتریچ نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر سعودی عرب، اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بدلے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ ’ریگستان میں اونٹوں پر سواری جاری رکھے‘۔
سموتریچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’میرا سعودی عرب سے متعلق بیان نامناسب تھا، اور اگر اس سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو میں افسوس کا اظہار کرتا ہوں‘۔
انہوں نے اسرائیل میں ایک کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’اگر سعودی عرب ہمیں کہتا ہے کہ تعلقات کی بحالی کے بدلے فلسطینی ریاست تسلیم کرو، تو ہم کہیں گے دوستو، نہیں شکریہ‘۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’آپ سعودی ریگستان میں ریت پر اونٹ دوڑاتے رہیں، ہم اپنی معیشت، معاشرے، ریاست اور ان تمام عظیم چیزوں کے ساتھ حقیقی ترقی کرتے رہیں گے جنہیں ہم بنانا جانتے ہیں‘۔ اس بیان پر اسرائیل کے اندر سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔
بیان پر تنقید
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپید نے بیزلیل سموتریچ کے بیان کی فوری مذمت کی۔
انہوں نے ایکس پر عربی زبان میں لکھا تھا کہ ’سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کے ہمارے دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ سموتریچ ریاستِ اسرائیل کی نمائندگی نہیں کرتے‘۔ بعد ازاں انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر خزانہ اپنے بیان پر معافی مانگیں۔
سابق وزیر دفاع اور اپوزیشن رہنما بینی گینٹز نے کہا تھا کہ ’سموتریچ کے ریمارکس جہالت اور احساس ذمہ داری کے فقدان کی عکاسی کرتے ہیں، جو کسی اعلیٰ حکومتی وزیر اور کابینہ کے رکن کے شایانِ شان نہیں‘۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی وزارتِ داخلہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا غزہ: امدادی سامان کی ترسیل میں اسرائیلی رکاوٹیں، سیز فائر کے 2 ہفتے بعد بھی بھوک و پیاس برقرار چین کا کھلے پن کے سلسلے میں چین کی ضروریات اور دنیا کی توقعات دونوں کو مدنظر رکھنے کا اعلان کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی سینٹرل کمیٹی کی جانب سے نان پارٹی شخصیات کے سمپوزیم کا انعقاد اسرائیل مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے سے باز رہے بصورت دیگر سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے، ٹرمپ بیٹی کی مغربی طرز کی شادی کی ویڈیو وائرل، خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی کا ردعمل آگیا غزہ امن مشن میں متعدد ممالک شمولیت پر آمادہ؛ امریکی وزیر خارجہ کا انکشافCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انتہا پسند
پڑھیں:
پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
ویب ڈیسک: پی ٹی اے نے ملک بھر کے موبائل فون صارفین کے لیے ایک اہم اور تنبیہی پیغام جاری کیا ہے جس میں اپنی نام پر رجسٹرڈ سمز کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے خبردار کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اپنی شناخت پر جاری شدہ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قانوناً جرم ہے کیونکہ آپ کے نام پر موجود سم کسی بھی غیر قانونی یا مجرمانہ کارروائی میں استعمال ہو سکتی ہے۔
صارفین کی سہولت اور حفاظت کے لیے پی ٹی اے نے ہدایت کی ہے کہ شہری یہ چیک کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں فعال ہیں،اس معلومات کیلئے صارفین cnic.sims.pk ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں یا اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر کسی ڈیش (-) کے 668 پر ایس ایم ایس کر کے تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اگر شناختی کارڈ پر کوئی نامعلوم یا بلا ضرورت سم نظر آئے تو اسے فوری طور پر بلاک کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محفوظ خریداری اور بائیو میٹرک کا احتیاطی استعمال
پی ٹی اے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نئی سم کی خریداری کے لیے ہمیشہ صرف مستند فرنچائز یا آفیشل کسٹمر سروس سینٹر کا ہی انتخاب کریں اور اس بات کی مکمل تصدیق کریں کہ آپ کی اجازت یا علم کے بغیر کوئی بھی سم رجسٹر نہ کی جا رہی ہو۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اس سے قبل بھی پی ٹی اے کی جانب سے شہریوں کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ مفت سم کا لالچ دے کر بائیو میٹرک تصدیق کروانے والے افراد سے ہوشیار رہیں۔
ایسے دھوکے باز آپ کی بائیو میٹرک کا غلط استعمال کر کے آپ کی معلومات پر کوئی اور سم بھی جاری کروا سکتے ہیں، جس کا خمیازہ بعد میں اصل صارف کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔