اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ بیزلیل سموتریچ نے سعودی عرب سے متعلق اپنے بیان کو ’’نامناسب‘‘ قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بیان سے کسی کو دکھ یا تکلیف پہنچی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، بیزلیل سموتریچ نے چند روز قبل ایک متنازع بیان میں کہا تھا کہ اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بدلے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتا ہے، تو سعودیوں کو ’’ریگستان میں اونٹوں پر سواری‘‘ جاری رکھنی چاہیے۔

Israeli ultranationalist minister of finance Smotrich: "If Saudi Arabia is telling us that in return for normalization they want a Palestinian state - we will say: Friends, no thank you, you can continue riding camels on the sand in the Saudi desert" pic.

twitter.com/BcPMhbHRns

— Barak Ravid (@BarakRavid) October 23, 2025

ان کے اس ریمارک پر اسرائیل کے اندر شدید ردعمل سامنے آیا۔ اپوزیشن لیڈر یائر لاپید نے عربی زبان میں ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’’سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کے دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ سموتریچ ریاستِ اسرائیل کی نمائندگی نہیں کرتے‘‘۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر خزانہ کو اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔

لأصدقائنا في المملكة العربية السعودية وفي الشرق الأوسط، سموتريتش لا يمثّل دولة إسرائيل

— יאיר לפיד - Yair Lapid (@yairlapid) October 23, 2025

اسی طرح، سابق وزیر دفاع اور اپوزیشن رہنما بینی گینٹز نے کہا کہ سموتریچ کے ریمارکس ’’جہالت اور احساسِ ذمہ داری کے فقدان‘‘ کی عکاسی کرتے ہیں، جو کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار کے شایانِ شان نہیں۔

האמירות של השר סמוטריץ' נגד סעודיה מעידות על בורות, וחוסר הפנמה של אחריותו כשר בכיר בממשלה ובקבינט.
ישראל ראויה לממשלה נטולת קיצוניים, שבה השרים ידאגו לעתיד המדינה, ולא לעוד כמה לייקים.

— בני גנץ - Benny Gantz (@gantzbe) October 23, 2025

سموتریچ نے بعد ازاں ایک ویڈیو بیان میں تسلیم کیا کہ ان کا سعودی عرب سے متعلق تبصرہ نامناسب تھا، اور انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔

اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔

ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔

مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے