ایم این اے حمید حسین سے وفود کی ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
سنٹرل کرم کے عوامی نمائندوں نے آج پارلیمنٹ لاجز میں ملاقات کی۔ وفد نے اپنے علاقے کے مختلف عوامی مسائل پیش کیے جن میں بنیادی سہولیات، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی معاملات سے متعلق امور شامل تھے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
ایم این اے حمید حسین سے کرم سے تعلق رکھنے والے وفود کی ملاقاتیں
ایم این اے حمید حسین سے کرم سے تعلق رکھنے والے وفود کی ملاقاتیں
ایم این اے حمید حسین سے کرم سے تعلق رکھنے والے وفود کی ملاقاتیں
ایم این اے حمید حسین سے کرم سے تعلق رکھنے والے وفود کی ملاقاتیں
ایم این اے حمید حسین سے کرم سے تعلق رکھنے والے وفود کی ملاقاتیں
ایم این اے حمید حسین سے کرم سے تعلق رکھنے والے وفود کی ملاقاتیں
ایم این اے حمید حسین سے کرم سے تعلق رکھنے والے وفود کی ملاقاتیں
ایم این اے حمید حسین سے کرم سے تعلق رکھنے والے وفود کی ملاقاتیں
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پارلیمانی لیڈر و رکنِ قومی اسمبلی انجنیئر حمید حسین طوری سے کرم سے تعلق رکنے والے وفود نے ملاقاتیں کیں۔ سنٹرل کرم کے عوامی نمائندوں نے آج پارلیمنٹ لاجز میں ملاقات کی۔ وفد نے اپنے علاقے کے مختلف عوامی مسائل پیش کیے جن میں بنیادی سہولیات، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی معاملات سے متعلق امور شامل تھے۔ انجنیئر حمید حسین طوری نے وفد کے مسائل بغور سنے اور بعض فوری نوعیت کے مسائل پر متعلقہ اداروں کے سربراہان سے رابطہ کرکے ان کے حل کی ہدایت جاری کی۔ علاوہ ازیں حمید حسین طوری سے پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد میں پاراچنار کے عمائدین و مشران کیپٹن (ر) سید ظاہر علی شاہ اور حاجی سید نجف علی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ضلع کرم، بالخصوص پاراچنار کے عوام کو درپیش مسائل، بنیادی سہولیات، امن و امان کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔