جنرل ساحر شمشاد مرزا کا دورہ مالدیپ، صدر اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے جمعے کو مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیز، وزیرِ دفاع محمد غسان مامون، اور چیف آف ڈیفنس فورس میجر جنرل ابراہیم حلمی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان عالمی اور علاقائی سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فریقین نے دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور فوجی سطح پر روابط بڑھانے کے نئے مواقع پر غور کیا۔
مالدیپ کی سول و عسکری قیادت نے پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
دورے کے آغاز پر جنرل ساحر شمشاد مرزا کی آمد پر مالدیپ نیشنل ڈیفنس فورس کے ہیڈکوارٹرز میں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنرل ساحر شمشاد مرزا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی گارڈ آف آنر مالدیپ نیشنل ڈیفنس فورس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی گارڈ آف آنر مالدیپ نیشنل ڈیفنس فورس
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔