جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کی میناتو سٹی کی میئر سیئکے آئی کی پاکستانی نامزد سفیر عبدالحمید سے ملاقات—

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کی میناتو سٹی کی میئر سیئکے آئی (Seike Ai) نے پاکستان کے نامزد سفیر عبدالحمید سے ملاقات کی اور پاکستان میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے امداد دی ہے۔

ملاقات کے دوران میئر سیئکے آئی نے کہا کہ جاپان اور پاکستان دو ایسے دوست ممالک ہیں جو قدرتی آفات کے دوران ایک دوسرے کے دکھ درد کو باخوبی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جاپانی عوام پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ گہری ہمدردی رکھتے ہیں اور یہ عطیہ اسی جذبۂ انسانیت اور دوستی کی علامت ہے۔

پاکستانی سفیر عبدالحمید نے میناتو سٹی کی میئر اور جاپانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جاپان نے ہمیشہ پاکستان کے مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام نے ماضی میں زلزلوں، سونامی اور دیگر قدرتی آفات میں ایک دوسرے کی مدد کر کے انسانیت، تعاون اور باہمی احترام کی بہترین مثال قائم کی ہے۔

سفارتِ پاکستان، ٹوکیو کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ میئر سیئکے آئی کا یہ اقدام جاپان اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستی کے رشتے کو مزید مضبوط بناتا ہے، دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کر کے ثابت کیا ہے کہ حقیقی دوستی سرحدوں سے بالاتر ہوتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: میئر سیئکے ا ئی میناتو سٹی کہا کہ

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟