چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، نشانِ امتیاز (عسکری)، نشانِ امتیاز (ملٹری)، سرکاری دورے پر بنگلہ دیش پہنچے جہاں انہوں نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ناظم الحسن، چیف آف ایئر اسٹاف ائیر چیف مارشل حسن محمود خان، اور پرنسپل اسٹاف آفیسر آرمڈ فورسز ڈویژن لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم کمرال حسن سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان عالمی و علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی و عسکری تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید پڑھیں: عمران خان کو ریلیف؟ اہم فیصلہ ہوگیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کی ملک دشمنوں کو آخری وارننگ

فریقین نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دفاع و سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان برادرانہ تعلقات کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک باہمی احترام اور خودمختاری کی بنیاد پر تعلقات کو مزید وسعت دیں گے۔

دورے کے دوران جنرل ساحر شمشاد مرزا نے سکول آف انفینٹری اینڈ ٹیکٹکس، سلہٹ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے فیکلٹی اور طلبا سے ملاقات کی۔

مزید پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھارت کو وارننگ، علی امین کی نوکری بچ گئی

بنگلہ دیش کی سول و عسکری قیادت نے پاک افواج کے پیشہ ورانہ معیار، دہشتگردی کے خلاف قربانیوں اور قومی سلامتی کے فروغ میں کردار کو سراہا۔

دورے کے آغاز پر سیناکنجو میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جبکہ انہوں نے شکھا انیربان یادگار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ایس پی آر ایس ایم کمرال حسن جنرل ساحر شمشاد مرزا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی چیف آف ایئر اسٹاف ائیر چیف مارشل حسن محمود خان، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ناظم الحسن، چیف ایڈوائزر محمد یونس،.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر ایس ایم کمرال حسن چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی چیف آف ایئر اسٹاف ائیر چیف مارشل حسن محمود خان چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ناظم الحسن چیف ایڈوائزر محمد یونس چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ا ئی ایس پی ا ر بنگلہ دیش چیف آف

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو