کراچی: اینکر پرسن امتیاز میر کے قتل میں ملوث بین الاقوامی کالعدم تنظیم کے 4 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
سندھ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سینئر اینکر امتیاز میر کے قتل میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا جن کا تعلق بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم سے ہے۔
امتیاز میر قتل کیس کی پیشرفت کے حوالے سے وزیرداخلہ اور کراچی پولیس چیف نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور قاتلوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا۔
وزیرداخلہ نے بتایا کہ نجی نیوز چینل سے تعلق رکھنے والے سینئر اینکر امتیاز میر کے مبینہ قاتل پکڑے گئے جن کا تعلق بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم سے ہے جبکہ ملزمان اعلیٰ تعلیمی یافتہ ہیں۔
ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں امتیاز میر پر فائرنگ کرنے والا مرکزی ملزم بھی شامل ہے، جبکہ ملزمان کے قبضے سے حملے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور دیگر سامان برآمد کر لیا گیا۔
وزیرداخلہ نے بتایا کہ گزشتہ ماہ امتیاز میر کو کالا بورڈ کے قریب گولیاں ماری گئیں تھیں، وہ ایک ہفتے تک زیر علاج رہنے کے بعد اسپتال میں ہی انتقال کرگئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حساس ادارے اور کراچی پولیس نے مشترکہ کارروائی کر کے چار ملزمان کو گرفتار کیا، جن کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم سے ہے اور یہ بیرون ملک سے ہدایات لیتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان کو ناظم آباد سمیت مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا جبکہ اجلال نامی ملزم اس سے قبل بھی گرفتار ہوچکا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ کے مطابق گرفتار ملزم بی بی اے پاس اور میٹرک پاس اور بیرون ملک سے ترتیب یافتہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہی ملزمان پولیس کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث ہیں، تفتیش کے دوران واقعے اور ملزمان سے برآمد ہونے والے خول میچ کرگئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان کے مزید ساتھیوں اور گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے بتایا کہ امتیاز میر انہوں نے
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔