data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251028-08-7

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کے ایم سی لانڈھی کایٹج انڈسٹریز ایکشن کمیٹی کی آئینی پٹیشن کی سماعت پیر کو ایک سال کے وقفے کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سید یوسف علی سعید اور جسٹس عبدالمبین لاکھو پرمشتمل ڈبل بییچ نے کی اس موقع پر پٹیشنر محمود حامد کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اکتوبر 2024 ء کو جسٹس صلاح الدین پنہور نے کے ایم سی لانڈھی کایٹج انڈسٹریز کی زمین کے سروے کے لیے کے ایم سی، ریونیو بورڈ کے افسران کی ایک کمیٹی چیف سیکرٹری سندھ کی سربراہی میں تشکیل دی تھی جس کے ذمے یہ کام تقویض کیا گیا تھا کہ وہ لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی زمین کا مکمل سروے کر کے عدالت میں رپورٹ پیش کرے لیکن وہ رپورٹ عدالت میں ایک سال گزر جانے کے باوجود پیش نہیں کی گئی جس پر عدالت نے سرکاری وکلا سے اس رپورٹ کے بارے میں پوچھا جس پر وکلا نے کہا کہ رپورٹ تیاری کے مرحلے میں ہے ہم 10 روز میں یہ رپورٹ عدالت میں پیش کر دیں گے جس پر پٹیشنر نسرین ابو نثر نے سوال اٹھایا کہ سرکاری وکلا کے ایم سی ریونیو بورڈ اور چیف سیکرٹری ایک سال میں رپورٹ پیش نہ کر کے توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں ، عدالت نے وکلا کو تنبیہ کرتے ہوئے 19 نومبر 2025ء تک عدالت میں کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا سماعت کے موقع پر لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کے اراکین کی بڑی تعداد موجود تھی اور اس بات پر خوشی کا اظہار کر رہی تھی کہ 26 ویں ائینی ترمیم کے بعد ایک سال تک ہمارے کیس کی جو سماعت رکی ہوئی تھی وہ اب دوبارہ شروع ہو گئی ، میڈیا سے بات کرتے ہوئے لانڈھی کایٹج انڈسٹریز کے چیئرمین محمود حامد نے کہا کہ کے ایم سی لانڈھی کایٹج انڈسٹریز کے الاٹیز 33 سال سے الاٹمنٹ کے منتظر ہیں اور سرکاری محکمے اس میں مسلسل تاخیر کر رہے ہیں عدالت عالیہ سے ہمیں انصاف ملنے کی امید ہے اور جسٹس صلاح الدین پنہور کا سروے کا حکم ایک اہم پیش رفت ہے مگر اس 26 ویں آئینی ترمیم کی آڑ میں ایک سال کی تاخیر کی گئی ہے لیکن اب ہمیں امید ہے کہ ہمارے کیس کی سماعت تیز رفتاری سے ہوگی اور لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی آباد کاری کے لیے فیصلہ جلد صادر ہوگا۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ایم سی لانڈھی انڈسٹریز کی عدالت میں ایک سال

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے