WE News:
2026-06-03@06:15:21 GMT

خالصتان تحریک نے اب تک کیا حاصل کیا؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

خالصتان تحریک نے اب تک کیا حاصل کیا؟

بھارتی سکھوں میں خالصتان تحریک کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج بھی کئی پرو خالصتان رہنما بھارتی سیاست میں سرگرم ہیں۔

اِندرا گاندھی کے قاتل بے انت سنگھ کے بیٹے سربجیت سنگھ خالصہ اس وقت بھارتی پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خالصتان تحریک اور مودی کا خوف

اسی طرح وارث پنجاب دے تنظیم کے بانی امرت پال سنگھ، جو جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کے نظریات سے متاثر ہیں، نے سنہ 2024 میں بھارتی عام انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ تاہم انتخابات سے قبل ہی بھارتی حکومت نے انہیں گرفتار کر کے آسام کی جیل منتقل کر دیا۔

امرت پال سنگھ نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کے بارے میں متنازع بیان دیا تھا کہ ’امت شاہ کا انجام اندرا گاندھی جیسا ہو گا‘، جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

پرو خالصتان رہنما سمرنجیت سنگھ مان بھی سنہ 2022 میں بھارتی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور سنہ 2024 تک ایوان کا حصہ رہے۔

خالصتان تحریک آج بھی مکمل ریاستی آزادی حاصل نہیں کر سکی مگر اس نے سکھ قوم کی جداگانہ شناخت، عالمی سطح پر سفارتی اثر اور سکھ ڈائسپورا کی سیاسی بیداری کو مضبوط بنایا ہے۔

یہ تحریک بھارت کے لیے نہ صرف داخلی سلامتی بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک حساس اور دیرپا چیلنج بن چکی ہے۔

بیرونِ ملک تحریک کی قیادت

بیرونِ ملک خالصتان تحریک کی سب سے توانا آواز گرپتونت سنگھ پنوں ہیں، جو تنظیم سکھس فار جسٹس (ایس ایف جے) کے بانی ہیں۔ بھارتی حکومت کے مطابق ان پر ملک دشمن سرگرمیوں کے الزامات ہیں جب کہ پنوں خود کو ’سکھ حقوق کا عالمی علمبردار‘ قرار دیتے ہیں۔

مزید پڑھیے: کینیڈا میں گرفتار خالصتانی رہنما اندر جیت سنگھ گوسل ضمانت پر رہا، اجیت ڈوول کو چیلنج

ان پر مبینہ طور پر بھارتی خفیہ اداروں کی جانب سے قاتلانہ حملے کی کوشش بھی کی گئی۔

گرپتونت پنوں نے گزشتہ چار برسوں میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، اٹلی، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک میں ’آزاد خالصتان ریفرنڈم‘ منعقد کیے، جن میں لاکھوں سکھوں نے حصہ لیا۔

آزاد خالصتان ریفرنڈم: عالمی توجہ کا مرکز

سنہ2021 سے سنہ 2025 کے دوران ہونے والے ریفرنڈمز میں صرف امریکا اور کینیڈا سے 4 لاکھ کے قریب سکھ شریک ہوئے جن میں سے 90 فیصد نے آزاد خالصتان کے حق میں ووٹ دیا۔

ان ریفرنڈمز نے نہ صرف سکھ ڈائسپورا کو متحد کیا بلکہ بھارت کے لیے ایک سفارتی چیلنج بھی پیدا کر دیا۔

بھارتی حکومت نے سنہ 2019 میں سکھس فار جسٹس کو کالعدم قرار دیا۔

جون 2023 میں اسی تنظیم کے رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو کینیڈا میں قتل کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں: لاہور پریس کلب سے خطاب کرنے پر خالصتانی رہنما گرپتونت سنگھ پنوں پر انڈیا میں مقدمہ درج

کینیڈین تحقیقات کے مطابق اس واردات میں بھارتی خفیہ اہلکار ملوث تھے جس کے بعد بھارت اور کینیڈا کے تعلقات شدید سفارتی بحران کا شکار ہو گئے۔

ان تنازعات کے باوجود، ان واقعات نے خالصتان تحریک کو عالمی میڈیا میں زندہ رکھا اور سکھوں کی قومی شناخت پر مباحث کو تقویت دی۔

بھارت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

خالصتان تحریک بھارت کے لیے ایک سنگین سفارتی، عسکری اور داخلی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق کینیڈا کی سیاست نے خالصتانی قوتوں کو غیر معمولی آزادی دی ہے اور انہیں ایسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے جو بھارت کے مفاد اور تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا کہ ’ہم غیر قانونی عناصر کی بھارت مخالف سرگرمیوں پر تشویش رکھتے ہیں۔ میزبان حکومت کو چاہیے کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرے جو جمہوری آزادیوں کا غلط استعمال کر کے علیحدگی پسندی یا تشدد کو فروغ دیتے ہیں‘۔

خالصتان تحریک کا تاریخی پس منظر

خالصتان تحریک کا باقاعدہ آغاز سنہ 1980 کی دہائی میں ہوا جب جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ نے بھارتی حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت شروع کی۔

تاہم سکھوں میں علیحدہ قومی تشخص کی خواہش تقسیمِ ہند کے فوراً بعد سے موجود تھی۔ بہت سے سکھوں کو شکوہ تھا کہ ان کے متعدد مقدس مقامات پاکستان میں رہ گئے۔

سنہ 1920میں قائم ہونے والی اکالی دل سکھوں کے حقوق کے لیے سرگرم رہی۔ اسی جماعت کی جدوجہد کے نتیجے میں سنہ 1966 میں پنجاب کو ایک الگ صوبے کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

مگر سنہ 1970 کی دہائی کے آخر میں نوجوان سکھوں نے محسوس کیا کہ اکالی دل کی قیادت نرم رویہ اختیار کر چکی ہے۔ یہی خلا بھنڈرانوالہ نے پُر کیا اور وہ اکالی دل کی متوازی قوت بن کر ابھرے۔

اکالی دل اور بھنڈرانوالہ میں اختلافات

جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور اکالی دل کے درمیان اختلاف کی بنیاد سکھ سیاست پر کنٹرول اور تحریکِ خودمختاری کے طریقہ کار تھی۔

اکالی دل مذاکرات اور پارلیمانی سیاست کا حامی تھا جب کہ بھنڈرانوالہ مسلح جدوجہد اور مذہبی سختی کے قائل تھے۔

بھنڈرانوالہ نے اکالی قیادت پر بھارت سے مفاہمت کرنے اور سکھ مفادات سے ’غداری‘ کا الزام لگایا، جس سے پنجاب میں مذہبی و سیاسی تقسیم گہری ہو گئی۔

آپریشن بلیو اسٹار اور اندرا گاندھی کا انجام

جون 1984 میں بھارتی حکومت نے گولڈن ٹیمپل میں موجود سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کے خلاف آپریشن بلیو اسٹار شروع کیا۔ اس کارروائی میں بھنڈرانوالہ مارے گئے۔

اسی سال اکتوبر میں اندرا گاندھی کو ان کے 2 سکھ محافظوں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

سنہ1986  بعد ازاں آپریشن بلیک تھنڈر میں ہزاروں سکھ مارے گئے اور خالصتان تحریک وقتی طور پر کمزور پڑ گئی۔

خالصتان تحریک کی نمایاں کامیابیاں

پنجابی صوبے کی تشکیل (1966):

سکھوں کی طویل سیاسی جدوجہد کا نتیجہ پنجاب کی تنظیمِ نو کی صورت میں نکلا جس سے ایک سکھ اکثریتی ریاست وجود میں آئی۔ یہ مکمل آزادی نہیں تھی مگر سکھ شناخت کو تقویت ملی۔

سکھ شناخت کی عالمی آگاہی

سنہ 1984 کے آپریشن بلیو اسٹار اور بعد کے سکھ مخالف فسادات نے دنیا بھر میں سکھوں کے حقوق کے مسئلے کو اجاگر کیا۔

سکھ ڈائسپورا نے خالصتان تحریک کو زندہ رکھا اور بین الاقوامی فورمز پر اپنی مذہبی و سیاسی شناخت کے لیے آواز بلند کی۔

آنندپور صاحب قرارداد

سنہ 1973 میں آنند پور صاحب قراردار کی منظوری نے سکھوں کی خودمختاری اور مذہبی شناخت کے مطالبات کو باقاعدہ شکل دی۔

اس قرارداد کے نتیجے میں سنہ 1978 کی آئینی ترمیم کے تحت سکھ مذہب کو ہندوازم سے الگ تسلیم کیا گیا — یہ خالصتان تحریک کی ایک اہم سیاسی کامیابی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آپریشن بلیو اسٹار اندرا گاندھی اندرا گاندھی کا قتل خالصتان تحریک سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ گولڈن ٹیمپل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا پریشن بلیو اسٹار اندرا گاندھی اندرا گاندھی کا قتل خالصتان تحریک گولڈن ٹیمپل خالصتان تحریک کی اندرا گاندھی بھارتی حکومت بھارت کے لیے میں بھارتی بلیو اسٹار کے خلاف کر دیا

پڑھیں:

فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام

سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔

یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟

30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:

’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘

اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔

ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:

’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘

اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔

اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔

        View this post on Instagram                      

حقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟

اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔

ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔

اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:

’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘

"An Indian thrashed in Thailand." ????

A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.

As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF

— Suraj Kumar Bauddh (@SurajKrBauddh) January 3, 2026

 

دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔

خبر کی سرخی تھی:

’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘

رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔

ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔

فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار

یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے