بھارتی صدر دروپدی مرمو کی رافیل طیارے میں پرواز، جنگی جہاز میں سفر کرنے والے تیسری بھارتی صدر بن گئیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
بھارتی صدر دروپدی مرمو نے ہریانہ کے امبالہ ایئر فورس اسٹیشن سے رافیل جنگی طیارے میں ایک یادگار پرواز کی۔
اس موقع پر چیف آف ایئر اسٹاف، ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ بھی ایک دوسرے رافیل طیارے میں اڑے، جو صدر کے طیارے کے قریب فارمیشن میں پرواز کر رہا تھا۔
پرواز سے قبل صدر مرمو نے ایئر فورس کے اعزازی دستے کا معائنہ کیا۔ وہ اس موقع پر فضائیہ کے پائلٹ یونیفارم میں ملبوس تھیں اور انہوں نے رافیل میں سوار ہونے سے پہلے عملے کو مبارکباد دی۔
یہ بھی پڑھیے: رافیل طیاروں کی ناکامی کے باوجود مودی سرکار کی فرانس سے مزید معاہدے کی کوششیں
عہدیداروں کے مطابق، صدر کی یہ پرواز بھارتی فضائیہ کی عسکری تیاریوں اور جنگی رویوں کی علامت ہے۔
رافیل طیارے، جو فرانسیسی کمپنی ‘داسو ایوی ایشن’ کے تیار کردہ ہیں، کو ستمبر 2020 میں بھارتی فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا۔ پہلی 5 جیٹس 27 جولائی 2020 کو فرانس سے بھارت پہنچی تھیں۔
یاد رہے کہ صدر مرمو وہ پہلی بھارتی صدر بن گئی ہیں جنہوں نے 2 مختلف جنگی طیاروں (سukhoi-30 اور Rafale) میں پرواز کی ہے۔ ان سے قبل ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام (2006) اور پرتیبھاپاٹل (2009) نے سوخوئی طیاروں میں پرواز کی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت جہاز رافیل طیارہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت جہاز رافیل طیارہ بھارتی صدر میں پرواز
پڑھیں:
نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس—فائل فوٹویورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں۔
یورپی یونین کا وفد پاکستان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا۔
کایا کالاس نے پاکستان پہنچنے کے بعد اسلام آباد سے ایک انسٹا اسٹوری شیئر کی ہے۔
انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا ہے کہ میں آج اسلام آباد میں ہوں۔
یورپی یونین کی نمائندہ نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان ایک بڑی علاقائی طاقت ہے اور یورپی یونین کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔
انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے اہم موقع پر ہوا ہے جب دنیا اور اس خطے نے گہری تبدیلیوں کا تجربہ کیا ہے۔