افغان طالبان نے جارحیت دکھائی تو پی ٹی آئی پاکستان کیساتھ کھڑی ہوگی، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ اگر کوئی ملک پراکسی یا پھر براہ راست جنگ لڑے گا، پاکستان کے ہر ایک انچ کا دفاع کیا جائے گا اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانیوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف بھی پاکستان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اگر افغانستان نے کسی قسم کی جارحیت دکھائی تو پاکستان کو حق دفاع حاصل ہے، ہمارے پاس صلاحیت اور وسائل، دونوں موجود ہیں۔یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہم بھارت کیخلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے، اگر ایسی صورتحال دوبارہ ہوئی تو افغانستان ہمارے لیے زیادہ مختلف نہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بہترین مفاد میں یہ ہے کہ ہم اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ پر امن حالات میں رہیں، تاہم، افغانستان کا معاملہ کشیدہ ہے، افغان طالبان کی پورے ملک میں رِٹ قائم نہیں ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ شاہد ترکیہ میں ہونے والے مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکیں گے، ہمیں دوبارہ مذاکرات کے لیے کوشش کرنی چاہیے جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہو جاتا، دوست ممالک کو ساتھ ملا کر افغان طالبان کو سمجھانا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر پاکستان کے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔