صدر مملکت نے پاک فوج سے متعلق ترمیمی بل 2025 پر دستخط کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
صدر مملکت آصف زرداری نے پاک فوج سے متعلق پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور چاروں قانون پر دستخط کر دیے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2025، پاکستان ایئر فورس (ترمیمی) بل 2025 اور پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 سینیٹ سے کثرت رائے سے منظور
صدر مملکت نے قومی پارلیمنٹ سے منظور چاروں قانون پر دستخط کر دیے، صدر کی منظور کے بعد چاروں قوانین ایکٹ آف پارلیمنٹ بن گئے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2025، پاکستان ایئر فورس (ترمیمی) بل 2025 اور پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دے دی ہے۔@AAliZardari pic.
آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کے مطابق آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے، چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدت اس دن سے شروع ہوگی جس دن سے نوٹی فکیشن جاری ہوگا، جب جنرل کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی جائے گی تو ذیلی سیکشن دو کے تحت خدمات انجام دیں گے، وفاقی حکومت آرمی چیف (چیف اف ڈیفنس فورسز) کی فرائض اور ذمہ داریوں کا تعین کرے گی۔
بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ کی کلاز 8 جی میں بھی ترمیم کے بعد چئیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025ء سے ختم تصور ہوگا، آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر وزیراعظم 3 سال کے لیے کمانڈر آف نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا تقرر کریں گے، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی شرائط و قواعد و ضوابط کا تعین وزیراعظم کریں گے۔
بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کو مزید تین سال کے لیے دوبارہ تعینات بھی کرسکیں گے، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی دوبارہ تقرری یا توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔
بل میں مزید کہا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ریٹائرمنٹ کی عمر، سروس کی میعاد اور انہیں ہٹانا کمانڈر نیشنل اسٹریجک کمانڈ پر لاگو نہیں ہوگا، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ بطور جنرل پاکستان آرمی میں اپنی خدمات سر انجام دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ پاکستان آرمی ڈیفنس فورسز چیف آف
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار