Daily Mumtaz:
2026-06-03@07:01:48 GMT
سونا مزید مہنگا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت آج پھر بڑھ گئی۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 27ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 245ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں پیر کو بھی 24قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 2ہزار 700 روپے کے اضافے سے 4لاکھ 46ہزار 862روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح مقامی سطح پر فی 10 گرام سونے کی قیمت 2ہزار 315روپے کے اضافے سے 3لاکھ 82ہزار 112روپے کی سطح پر آگئی۔
سونے کی قیمتوں کے ساتھ ہی ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 54روپے کے اضافے سے 5ہزار 963روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 46روپے کے اضافے سے 5ہزار 112روپے کی سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت کے اضافے سے کی سطح پر
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔