بھارت کو بڑا جھٹکا: انڈین براہموس انجینیئر پاکستان کیلئے جاسوسی الزام سے بری
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
بھارت میں ممبئی ہائی کورٹ نے براہموس میزائل ایرو سپیس انجینیئر نشانت اگروال کو پاکستان کیلئے جاسوسی کے الزام سے بری کرتے ہوئے ان کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا کہ ملزم نے براہموس میزائل کے خفیہ راز پاکستان کو فراہم کیے تھے۔
تاہم عدالت نے نشانت اگروال کو اپنے ذاتی کمپیوٹر پر حساس معلومات رکھنے پر آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 3 سال قید کی سزا سنائی، جو وہ پہلے ہی جیل میں کاٹ چکے ہیں۔ اس لیے عدالت نے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
نشانت اگروال براہموس ایرو اسپیس کے ٹیکنیکل ریسرچ ڈویژن میں چار سال تک سسٹم انجینیئر کے طور پر کام کر چکے ہیں اور مسلح افواج کے لیے 2014 سے 2018 کے دوران 70 سے 80 میزائلوں پر کام کرنے والی ٹیم کا حصہ رہے۔ انہیں نوجوان سائنسدان کے ایوارڈ سمیت کئی اعزازات بھی مل چکے ہیں۔
انہیں 2018 میں انسدادِ دہشتگردی اسکواڈ اور ملٹری انٹیلی جنس نے گرفتار کیا تھا۔ حکام کا دعویٰ تھا کہ ان کے کمپیوٹر سے اہم خفیہ معلومات برآمد ہوئی تھیں اور یہ کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے انہیں ایک جعلی خاتون کے ذریعے ورغلا کر ڈیٹا حاصل کیا۔
ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بھارت کے حساس دفاعی ادارے براہموس ایروسپیس کے سیکیورٹی نظام پر اٹھنے والے سوالات بھی ایک بار پھر زیر بحث آگئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔