بھارت میں ممبئی ہائی کورٹ نے براہموس میزائل ایرو سپیس انجینیئر نشانت اگروال کو پاکستان کیلئے جاسوسی کے الزام سے بری کرتے ہوئے ان کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔

عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا کہ ملزم نے براہموس میزائل کے خفیہ راز پاکستان کو فراہم کیے تھے۔

تاہم عدالت نے نشانت اگروال کو اپنے ذاتی کمپیوٹر پر حساس معلومات رکھنے پر آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 3 سال قید کی سزا سنائی، جو وہ پہلے ہی جیل میں کاٹ چکے ہیں۔ اس لیے عدالت نے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

نشانت اگروال براہموس ایرو اسپیس کے ٹیکنیکل ریسرچ ڈویژن میں چار سال تک سسٹم انجینیئر کے طور پر کام کر چکے ہیں اور مسلح افواج کے لیے 2014 سے 2018 کے دوران 70 سے 80 میزائلوں پر کام کرنے والی ٹیم کا حصہ رہے۔ انہیں نوجوان سائنسدان کے ایوارڈ سمیت کئی اعزازات بھی مل چکے ہیں۔

انہیں 2018 میں انسدادِ دہشتگردی اسکواڈ اور ملٹری انٹیلی جنس نے گرفتار کیا تھا۔ حکام کا دعویٰ تھا کہ ان کے کمپیوٹر سے اہم خفیہ معلومات برآمد ہوئی تھیں اور یہ کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے انہیں ایک جعلی خاتون کے ذریعے ورغلا کر ڈیٹا حاصل کیا۔

ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بھارت کے حساس دفاعی ادارے براہموس ایروسپیس کے سیکیورٹی نظام پر اٹھنے والے سوالات بھی ایک بار پھر زیر بحث آگئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی