ایپل نے انڈین حکومت کی سیفٹی ایپ کو اپنی ڈیوائسز میں انسٹال کرنے سے انکار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
نئی دہلی: امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے بھارت کی جانب سے اس حکم پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے تحت تمام اسمارٹ فون کمپنیوں کو ریاستی ملکیت کے سائبر سیفٹی ایپ ’’سنجھر ساتھی‘‘ کو فونز میں پری لوڈ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق بھارتی حکومت نے خفیہ طور پر ایپل، سام سنگ، شیاؤمی سمیت متعدد کمپنیوں کو 90 دن کے اندر اندر اس ایپ کو فونز میں انسٹال کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ ایپ چوری شدہ موبائل فونز کو ٹریک کرنے، بلاک کرنے اور ان کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
حکومتی ہدایات کے مطابق نہ صرف نئے فون بلکہ اسٹاک میں موجود تمام ڈیوائسز میں بھی سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے ایپ انسٹال کی جائے، جبکہ صارف اسے فون سے ڈیلیٹ بھی نہ کر سکے۔
تاہم ایپل نے واضح کیا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسے حکومتی احکامات نہیں مانتا کیونکہ یہ iOS نظام کی سیکیورٹی اور صارف کی پرائیویسی کے لیے خطرہ ہیں۔ کمپنی حکام جلد حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔
بھارتی اپوزیشن جماعتوں اور پرائیویسی کے حامی اداروں نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حکومت کو 73 کروڑ بھارتی اسمارٹ فون صارفین تک رسائی دینے کی کوشش ہے۔ اُن کے مطابق یہ ایپ شہریوں پر نگرانی بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایپ کا مقصد چوری شدہ، بلیک لسٹ یا جعلی آئی ایم ای آئی والے موبائل فونز کے استعمال کو روکنا ہے، کیونکہ ملک میں سیکنڈ ہینڈ فونز کی بڑی مارکیٹ موجود ہے۔
سام سنگ اور دیگر کمپنیوں نے بھی حکومتی احکامات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔