…اور نوٹیفکیشن جاری ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حکومت نے جس طرح جلد بازی میں آئین میں 27 ویں ترمیم مجلس شوریٰ کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کروائی تھی، اسی سرعت سے اس پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا تھا۔ ستائیسویں آئینی ترمیم کو عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ لاہور میں چیلنج کر دیا گیا تھا اور ستائیسویں ہی نہیں 26 ویں ترمیم کے خلاف بھی درخواستوں کی سماعت اعلیٰ عدالتوں میں جاری ہے جہاں سے ان کے حق میں یا خلاف کسی بھی فیصلہ کی توقع کی جا سکتی ہے دوسری جانب عدالت عظمیٰ کے دو، عدالت عالیہ لاہور کے ایک اور ماتحت عدلیہ کے بھی بعض ججوں نے 27 ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی پر شب خون قرار دیتے ہوئے بطور احتجاج اپنے مناصب سے استعفے دے دیے اور نئے نظام کے تحت کام کرنے پر گھر بیٹھنے کو ترجیح دی۔ تیسری جانب آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی نے ان دونوں ترامیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف ہر جمعرات کو ہفتہ وار ہڑتال اور احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ چوتھی جانب حزب اختلاف کے اتحاد ’’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘‘ نے جمعہ 21 نومبر کو 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ’یوم سیاہ‘ منایا اور اس سے قبل پارلیمنٹ ہائوس کے باہر تحریک کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے تحریک کے چیئرمین محمود خاں اچکزئی، سینیٹر علامہ ناصر عباس، تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور دیگر رہنمائوں کی قیادت میں قومی اسمبلی کی عمارت سے عدالت عظمیٰ کی عمارت تک مارچ کیا۔ مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر آمریت مردہ باد ’’جمہوریت زندہ باد‘‘ اور 27 ترمیم نا منظور کے نعرے درج تھے۔ اسی طرح بعض دیگر حلقوں کی طرف سے بھی آئینی ترامیم کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا مگر حکومت نے اس میں سے کسی بھی احتجاج یا قانونی چارہ جوئی کی پروا کیے بغیر ترمیم کی منظوری کے فوری بعد اس کی روشنی میں تیز رفتاری سے عملی اقدامات شروع کر دیے سب سے پہلے عدالت عظمیٰ کے متوازی بلکہ بعض ماہرین آئین و قانون کی رائے میں عدالت عظمیٰ سے بالاتر ایک نئی ’’آئینی عدالت‘‘ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تشکیل دے دی گئی جس نے ایسے اپنے کام کا باقاعدگی سے آغاز کر دیا ہے۔ پھر 27 ویں ترمیم کے تقاضوں کی تکمیل کی خاطر سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی بھی از سر نو تشکیل کر دی گئی۔ عدلیہ کے بعد دفاعی اداروں کے حوالے سے اقدامات اور اصلاحات کی باری تھی۔ قیام پاکستان کے بعد بہت سے دیگر شعبوں کی طرح پاک فوج کا نظام بھی برطانیہ کی چھوڑی ہوئی روایات اور طریق کار کے مطابق کام کرتا رہا۔ 1971ء میں سقوط مشرقی پاکستان کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو نے باقی ماندہ پاکستان کا اقتدار سنبھالا تو افواج پاکستان کی کمان میں بعض تبدیلیاں کیں۔ چنانچہ 1972ء میں پاکستان کی مسلح افواج میں چیئرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ متعارف کرایا گیا اس عہدے پر بری، بحری یا فضائی کسی بھی فوج کا چار ستارہ جرنیل کے منصب کا افسر تعینات کیا جا سکتا تھا۔ مسلح افواج سے کمانڈر انچیف کا عہدہ بھی ذوالفقار علی بھٹو نے ختم کر دیا اور بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف، چیف آف نیول اسٹاف اور چیف آف ائر اسٹاف کے عہدے بنائے گئے۔ تب سے اب تک یہی نظام رائج چلا آ رہا تھا تاہم مئی 2025ء کی جنگ کے تجربہ کے بعد اس نظام میں بعض تبدیلیوں کی ضرورت محسوس کی گئی جو آئین میں 27 ویں ترمیم کے ذریعے عمل میں لائی گئیں اب نئی صورت حال میں نومبر کے آخری ہفتہ میں جائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل ساحر شمشاد کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی فوج کا یہ عہدہ بھی ختم ہو گیا ہے اور اب 27 ویں ترمیم کے ذریعے اس کی جگہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ متعارف کرایا گیا ہے جو بری، بحری اور فضائی افواج اور پیرا ملٹری فورسز سب کے سربراہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ افواج پاکستان کی تنظیم نو کی جا رہی ہے جس کے بعد مزید فورسز بھی تشکیل دی جائیں گی۔ ایک نئی راکٹ فورس بنائی جا رہی ہے، جنگی حکمت عملی کی ترتیب اور غور و غوض کے لیے اسٹرٹیجک فورس معرض وجود میں لائی جا رہی ہے جب کہ الگ سے ایک نیشنل اسٹرٹیجک کمان کی تشکیل بھی پیش نظر ہے۔ یہ سب مستقل طور پر چیف آف ڈیفنس فورسز کی کمان میں کام کریں گی یوں ملک کے دفاعی اداروں کے مابین مضبوط ربط و تعاون کا باقاعدہ نظم جنم لے گا، اور ملکی دفاع کو زیادہ بہتر حکمت عملی کے تحت منظم کیا جا سکے گا۔
اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جنرل ساحر شمشاد کی مدت ملازمت پوری ہونے اور جائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ ختم ہونے سے پہلے یا کم از کم اس کے ساتھ ہی چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہو جاتا مگر نامعلوم وجوہ کی بنا پر یہ نوٹیفکیشن اس وقت جاری نہیں کیا گیا اور اس کے اجراء میں کم و بیش ایک ہفتے کی تاخیر ہوئی جس کے باعث ملک میں افواہوں کا بازار گرم رہا اور سازشوں کی تھیوریاں بھی پیش کی جاتی ہیں۔ حکومتی وزراء رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ وغیرہ اس تاخیر کا سبب وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ملک میں عدم موجودگی بتاتے رہے تاہم صاحبان فکر و دانش اسے تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے اور تجزیہ و تبصرہ نگار اپنی جانب سے طرح طرح کی حاشیہ آرائیاں کرتے دکھائی دیے خصوصاً سماجی ذرائع ابلاغ پر تو ایسی ایسی داستانیں سنائی گئیں کہ خدا کی پناہ… اس کیفیت نے ملک میں عجب طرح کے اضطراب اور کشمکش کو جنم دیا اور بہت سے لوگ تو اس کے نتیجے میں ’انقلاب‘ کے خواب بھی دیکھنے لگے تھے۔ بہرحال چار دسمبر کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پانچ سال کے لیے آرمی چیف اور ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کی سمری صدر مملکت آصف علی زرداری کو ارسال کی گئی، صدر نے کسی تاخیر کے بغیر اسی شام اس پر دستخط کر دیے اس سمری کے ساتھ ہی پاک فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں دو برس کی توسیع کی بھی منظوری دی گئی ہے جو 19 مارچ 2026ء سے ان کی موجودہ مدت ملازمت کی تکمیل کے بعد شروع ہو گی یوں پاک فضائیہ کے موجودہ سربراہ 2028ء تک اپنے اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس سمری پر وزیر اعظم اور صدر مملکت کے دستخطوں کے نتیجے میں بہت سے مضطرب الحال دلوں کی بے قراری کو آخر قرار نصیب ہو گیا ہے اور بے شمار افواہیں اور سازشی تھوریاں دم توڑ گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیف ا ف ڈیفنس فورسز ویں ترمیم کے عدالت عظمی کے خلاف کر دیا کے بعد
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :