’پاکستان نہیں تو ہم نہیں‘، یہ نعرہ آج دہشتگردی و بھارت کیخلاف جنگ میں ہمارے شہیدوں غازیوں کی زبان پرہے
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
سٹی42: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ "پاکستان نہیں تو ہم نہیں" کا نعرہ آج دہشت گردی اور بھارت کے خلاف جنگ میں ہمارے شہیدوں اور غازیوں کی زبان پرہے۔
اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا ہمارے شہیدوں اور غازیوں کے حوصلوں اورقربانیوں کی داستانیں ان کوبھی سنائیں جو کہتے ہیں"خان نہیں توپاکستان نہیں"، اس پاکستان کے لیے آگ اور خون کا دریا عبور کرنا پڑا تھا، لاکھوں لوگ شہید ہوئے، لاکھوں کی عصمتیں لٹیں، لاکھوں دشمن کے ہاتھوں اغوا ہوگئیں۔
گوجرانوالہ کا ترقی کی شاہراہ پر بڑا قدم؛ شہباز شریف نے بیلچہ چلادیا
خواجہ آصف نے کہاکہ سیالکوٹ آئیں، میں آپ کوجموں وکشمیرکے مہاجروں کی قربانیوں کی داستانیں سنواؤں، حامدمیر سےسنیں کہ اس کے نانا نےجموں وکشمیر سے ہجرت کی قیمت کیا ادا کی۔
خواجہ آصف نے کہا، سیالکوٹ شہر کے محلوں گلیوں اور چناب کے کنارے آباد ان مہاجروں سے پوچھیں، مہاجروں نے رسول آقائے دو جہاں ﷺ کی سنت کس طرح ادا کی، مہاجروں نے کس طرح خون کی لکیر کوعبور کرکےپاک سر زمین پر پہنچنے کے بعد شکر کےسجدےکئے تھے۔
پشین؛ عوام کو دیکھ کر میر سرفراز بگٹی اچانک گاڑی سے اتر کر لوگوں میں گھل مل گئے
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ "پاکستان نہیں تو ہم نہیں"، یہ وہ نعرہ ہے جو آج دہشت گردی اور بھارت کے خلاف جنگ میں ہمارے شہیدوں اور غازیوں کی زبان پرہے، پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف نے کہا پاکستان نہیں ہمارے شہیدوں
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔