ڈاکٹر کو شوکاز نوٹس دینے پر وزیراعلیٰ نے ایل آر ایچ انتظامیہ سے وضاحت طلب کرلی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پشاور:
پروٹوکول کی خلاف ورزی پر ڈاکٹر سے وضاحت طلب کرنے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایل آر ایچ انتظامیہ سے وضاحت طلب کر لی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ 20 روز پہلے کا ہے اور اسپتال کے ڈائریکٹر سے کسی قسم کی کارروائی نا کرنے کا کہا تھا۔
وزیراعلی نے سوشل میڈیا پر وضاحت دی کہ ڈاکٹر سے غلط وضاحت طلب کرنے پر میں نے اسپتال انتظامیہ سے وضاحت طلب کی ہے۔
واضح رہے کہ لیڈی ریڈنگ اسپتال انتظامیہ نے وزیر اعلیٰ کے دورے کے موقع پر پروٹوکول کی خلاف ورزی پر ڈاکٹر سے وضاحت طلب کی تھی۔
انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ متعلقہ ڈاکٹر نے نہ اپنا تعارف کروایا اور نہ ہی وزیر اعلیٰ کو ضروری بریفنگ فراہم کی، جو کہ اسپتال پروٹوکول کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق یہ عمل ’’پروٹوکول اور کوآرڈینیشن کی سنگین خلاف ورزی‘‘ ہے، جس پر ڈاکٹر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ تین روز کے اندر اپنی پوزیشن واضح کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔