مرکز کے منتظر ہیں، احتجاج کی کال پر ضرور نکلیں گے، پی ٹی آئی بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے صوبائی دفتر میں ہمارا ایک اجلاس ہونا تھا، مگر پولیس کی بھاری نفری یہاں بھی پہنچ گئی۔ اگر میڈیا نہ ہوتی تر ہمیں گرفتار کیا جاتا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ احتجاج کیلئے تیار اور مرکزی قیادت کی کال کے منتظر ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو ناحق سزا سنائی گئی، عدالت کا دروازہ کھٹکھائیں گے۔ تحریک انصاف بلوچستان کے صوبائی سیکرٹریٹ کوئٹہ میں پی ٹی آئی کے صوبائی رہنماؤں ایڈوکیٹ خورشید احمد کاکڑ، زین العابدین خلجی، ملک فیصل دہوار اور مہوش جنجوہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں انصاف کا قتل عام کیا گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جو سزا سنائی گئی، اس کی مذمت کرتے ہیں۔ القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کو 14 سالہ اور بشری بی بی کو 7 سال کی سزا سنائی گئی، حالانکہ القادر ٹرسٹ سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کوئی ذاتی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو نا حق سزا سنائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کا تین دفعہ فیصلہ آیا اور تین دفعہ فیصلے کو محفوظ کیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جو سزا سنائی گئی اسکے خلاف عدالت جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے صوبائی دفتر میں ہمارا ایک اجلاس ہونا تھا، مگر پولیس کی بھاری نفری یہاں بھی پہنچ گئی۔ پولیس والے کہتے ہیں کہ بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ ہے، آپ کوئی احتجاج نہیں کرسکتے ہیں۔ ہمیں کہا جا رہا ہے تحریک انصاف کے صوبائی دفتر کو بھی بند کر دیں۔ آج اگر ہمارے ساتھ میڈیا موجود نہ ہوتی، تو پولیس ہمیں بھی گرفتار کر لیتے اور ہم نہ حق جیلوں میں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ عطاء تارڑ پریس کانفرنس میں کہتے ہیں اسلامی کارڈ کھیلا جا رہا ہے۔ ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ کوئی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائے۔ ہم مرکز کی کال کے منتظر ہیں، اگر احتجاج کی کال دی تو ضرور احتجاج کریں گے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی عمران خان کے صوبائی نے کہا کہ کی کال
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس