ملک کا سابق وزیراعظم منصب پررہتے ہوئے چوری ڈکیتی کرتے پکڑا گیا، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ملک کا سابق وزیراعظم خیالی تنخواہ پر نہیں منصب پررہتے ہوئے چوری ڈکیتی کرتے پکڑا گیا ہے۔
وزیراطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا کہ کل پاکستان کی تاریخ کا ایک انوکھا دن تھا۔ پاکستان کا سابق وزیر اعظم کسی خیالی تنخواہ پر نہیں باقاعدہ اپنے منصب پر رہتے ہوئے چوری ڈکیتی کرتے پکڑا گیا۔ اس کیس کی 100 سے زیادہ سماعت ہوئیں اور ملزمان کو 15 مواقع دئیے گئے۔ نیب کی تفتیش کے لیے 35 سماعتیں ہوئیں۔ علیمہ خان کہتی تھیں کہ ہم چاہتے تھے کیس کا فیصلہ آجائے اور کل رورہی تھیں۔ تحریک فساد والے کل سے بوکھلائے پھر رہے ہیں۔
عظمی بخاری نے کہا کہ عمران خان کی اپنی کابینہ کے لوگوں سے کس طرح بند لفافے میں منظوری لی گئی اس کے گواہ ان کے اپنے وزراء رہے ہیں۔ مرزا شہزاد اکبر اور فرح گوگی کا اس میں کلیدی کردار ہے۔ آج بھی شہباز گل باہر بیٹھ کر سازشیں کررہا ہے۔ فرح گوگی کہہ رہی تھیں کہ پانچ کیرٹ سے کم کا ہیرا اچھا نہیں لگتا۔ خانہ کعبہ کی گھڑی بیچ کر کیش پیسے لانا بھی موصوفہ کا کمال ہے۔
وزیراطلاعات پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس پر بڑے بڑے دعوے کیئے گئے۔ ظلم اور بیہودگی کی انتہا یہ ہے کہ مذہب کارڈ استعمال کیا جارہا ہے۔ ان کو اسلامی ٹچ دینے اور مذہب کو استعمال کرنے کی پرانی عادت ہے۔ برطانیہ کی حکومت نے پاکستان کی حکومت سے رابطہ کیا کہ آپ کے پیسے بھیجنے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں پیسے بھیج کر 6 کروڑ کی ساڑھے 4 سو کنال زمین ، فرنیچر اور کمپیوٹر لیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعلیٰ عدالتوں کے ترجمان بنتے ہیں۔ کہتے ہیں اعلیٰ عدالتوں میں پہلی پیشی پر ریلیف مل جائے گا۔ مجھے اس پر تشویش ہے عدالت کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ اعلیٰ عدالت کیسے کرسکتی ہے کہ ا190ملین پاؤنڈ کو پاکستان کے اکاؤنٹ میں آنا تھا وہ کیسے کلیئر ہوجائے گا۔ این سی کا لیٹر جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت واپس بھیج رہے ہیں۔ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ لوٹی ہوئی دولت نہیں ہے۔ کوئی بھی عدالت کیا حقائق نظرانداز کرسکتی ہے۔ فرح گوگی کے نام پر زمین ٹرانفسر کس مد میں ہوئی۔ عمران خان اور ان کی بیوی نے ڈاکا ڈالا۔ سابق وزیراعظم پاکستان کو انٹرنیشنل میڈیا بد دیانت اور کرپٹ قرار دے رہا ہے۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رہے ہیں کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان سفارتی، سیاسی اور عسکری طور پر ایک بلند مقام پر کھڑا ہے، مسعود خان
سابق صدر آزاد کشمیر نے بی این یو سینٹر فار پالیسی ریسرچ میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی صف بندی، اور پاکستان، چین اور امریکہ کے تعلقات کے تناظر میں پاکسان کے آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے بی این یو سینٹر فار پالیسی ریسرچ میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی صف بندی، اور پاکستان، چین اور امریکہ کے تعلقات کے تناظر میں پاکسان کے آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ تقریب میں سابق قومی سلامتی مشیر ڈاکٹر معید یوسف سمیت متعدد ماہرینِ تعلیم بھی موجود تھے۔ اپنے خطاب کے آغاز میں سردار مسعود خان نے ڈاکٹر معید یوسف کو بی این یو میں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ عالمی طاقتوں میں مسابقت اور باہمی انحصار کا موجودہ ماحول تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور چین ایک دوسرے کے حریف ہونے کے باوجود اقتصادی، تکنیکی اور اسٹریٹیجک معاملات میں ایک دوسرے پر گہرا انحصار رکھتے ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ دو ہزار کی دہائی میں مغربی صنعتوں کا بڑی حد تک چین منتقل ہونا آج کے عالمی معاشی نقشے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ سردار مسعود خان نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو ’’اقتصادی گرفت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین نے یورپی،لاطینی امریکہ، کینینڈا اور آسٹریلیا تک اپنے خاموش لیکن مؤثر اثرات بڑھا کر امریکی برتری کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان،چین اور امریکہ کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم کے امکانات کم ہیں، تاہم دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام کمزور ہو چکا ہے، جس میں امریکہ کی پالیسی تبدیلیوں خصوصاً صدر ٹرمپ کے دور کی ازسرِنو سفارتی تشکیل نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کی موجودہ حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان سفارتی، سیاسی اور عسکری طور پر نسبتاً ایک بلند مقام پر کھڑا ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی غیر معمولی سطح پر پاکستان کی تعریف اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل ہے۔ سردار مسعود خان نے زور دیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ وہ چین اور امریکہ میں سے کسی ایک کیمپ میں کھڑے ہونے کے بجائے دونوں ممالک کے ساتھ جامع اور متوازن تعلقات استوار رکھے۔دفاعی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نہ صرف اپنی جوہری صلاحیت کو قابلِ اعتماد اور مستحکم رکھنا ہو گا بلکہ روایتی دفاعی طاقت کا توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مضبوط دفاع کا انحصار صرف عسکری قوت پر نہیں بلکہ سیاسی استحکام اور سماجی ہم آہنگی پر بھی ہوتا ہے۔
انہوں نے سی پیک پر چینی قیادت کے بھرپور اعتماد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورہ بیجنگ کے دوران سی پیک فیز ٹو کا آغاز اور 10 ارب ڈالر کے اضافی معاہدے اس بات کا واضح اظہار ہیں کہ چین کی شراکت داری نہ صرف برقرار ہے بلکہ وسعت اختیار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو معاشی ترقی کے لیے ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، ساختی تبدیلیوں اور ٹیک اسٹارٹ اپس کی بحالی کو ترجیح دینا ہو گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک معاشرے کے کمزور طبقات کو مواقع اور تحفظ نہیں دیا جاتا، ترقیاتی پالیسیاں پائیدار نہیں ہو سکتیں۔ سابق سفیر نے یاد دلایا کہ 1970ء کی دہائی میں پاکستان نے چین اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار ادا کیا تھا اور آج بھی پاکستان اقتصادی و تکنیکی رابطوں کا ایک اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔