کراچی میں پانی چوری کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
پانی کے کنکشن گھر کے تہہ خانے سے خفیہ سرنگوں کے ذریعے نکالے گئے تھے، چوری شدہ پانی شہریوں اور ادارے دونوں کیلئے نقصان دہ تھا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے ناظم آباد میں پانی چوری کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا۔ کراچی واٹر کارپوریشن اور سندھ رینجرز نے کارروائی کی، جس میں خفیہ سرنگوں کے ذریعے زیرِ استعمال 8 غیر قانونی کنکشن پکڑے گئے۔ ترجمان واٹر کارپورپشن کے مطابق 3 ماہ قبل پکڑے گئے کنکشن کے بعد دوبارہ پانی چوری کا انکشاف ہوا ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اس معاملے پر کہا ہے کہ اینٹی تھیفٹ ٹیم نے کارروائی میں 8 غیر قانونی کنکشن ختم کیے، جن سے روز 30 لاکھ گیلن پانی چوری ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے کنکشن گھر کے تہہ خانے سے خفیہ سرنگوں کے ذریعے نکالے گئے تھے، چوری شدہ پانی شہریوں اور ادارے دونوں کیلئے نقصان دہ تھا۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سندھ رینجرز نے کارروائی کے دوران ٹیم کو مکمل تحفظ فراہم کیا، عدالتوں اور ٹریبونل کے ذریعے ملوث افراد پر مقدمات چلیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔