اسلام آباد:

عالمی بینک داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے ایک ارب 58 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر کی مالی معاونت فراہم کر رہا ہے، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے بجلی کی پیداوار کا آغاز 2026 میں ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے عالمی بینک کے 9 رکنی وفد نے تربیلا ڈیم کے توسیعی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا، چیئرمین واپڈا انجینئر لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی (ریٹائرڈ) بھی وفد کے ہمراہ تھے۔

تربیلا ڈیم، تربیلا ہائیڈل پاور اسٹیشن اور چوتھے توسیعی منصوبے کو ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے مکمل کیا گیا ہے، عالمی بینک زیرتعمیر تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے کے لیے بھی 390 ملین امریکی ڈالر فراہم کر رہا ہے۔

اس موقع پر چیئرمین واپڈا نے کہا کہ عالمی بینک اور واپڈا گزشتہ 6 دہائیوں سے ترقی میں شراکت دار ہیں، اُمید ہے عالمی بینک پاکستان کی ترقی کے لیے آبی وسائل کی تعمیر کے ذریعے واپڈا کی معاونت جاری رکھے گا۔

عالمی بینک کے وفد نے تربیلا ڈیم سمیت دیگر پن بجلی منصوبوں کی تعمیر میں واپڈا کے کردار کی تعریف کی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ تربیلا ڈیم 1974 میں اپنی تعمیر سے اب تک پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے،تربیلا ڈیم اپنی تکمیل کے بعد زراعت کے لیے 411 ملین ایکڑ فٹ پانی مہیا کر چکا  ہے۔ 

تربیلا ہائیڈل پاور اسٹیشن سے نیشنل گرڈ کو مجموعی طور پر 597 ارب 30 کروڑ 90 لاکھ یونٹ سستی بجلی فراہم کی جا چکی ہے، یہ ڈیم قومی اقتصادیات کو 411 ارب امریکی ڈالر کے مساوی فوائد پہنچا چکا ہے، تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ عالمی بینک کا فلیگ شپ پراجیکٹ ہے، اس توسیعی منصوبے سے نیشنل گرڈ کو 27 کروڑ53 لاکھ 10 ہزار یونٹ بجلی مہیا ہو چکی ہے۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے کی تمام اہم سائٹس پر تعمیراتی کام جاری ہے،اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار 2026 میں شروع ہوگی، عالمی بینک داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے ایک ارب 58 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر کی مالی معاونت فراہم کر رہا ہے، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے بجلی کی پیداوار کا آغاز 2026 میں ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فراہم کر رہا ہے کی مالی معاونت توسیعی منصوبے امریکی ڈالر تربیلا ڈیم عالمی بینک کے لیے

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ