City 42:
2026-07-24@13:21:48 GMT

آبی ذخائر کی صورتحال، واپڈا نے خطرے سے آگاہ کردیا

اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT

ویب دیسک : واٹر اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی (واپڈا) کے ترجمان نے کہا ہے کہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ گئی جبکہ تربیلا ڈیم کا 36 گھنٹے میں ڈیڈ لیول تک پہنچنے کا امکان ہے۔

آبی ذخائر کی صورتحال کے حوالے سے ترجمان واپڈا نے اہم بیان جاری کیا ہے کہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1050 فٹ پر آگئی، تاہم اسکے بعد اخراج بند کردیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تربیلا ڈیم ڈیڈ لیول سے صرف 3 فٹ اونچا رہ گیا ہے، تربیلا ڈیم 36 گھنٹے میں ڈیڈ لیول تک پہنچنے کا امکان ہے۔

اسلاموفوبیا عالمی امن، بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ایک خطرہ ہے: مریم نواز

ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1402 فٹ تک گر گئی، تربیلا میں پانی کا ذخیرہ 15 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم کے حوالے سے ترجمان واپڈا نے کہا کہ منگلا میں پانی کا ذخیرہ 72 ہزار ایکڑ فٹ ہے جبکہ چشمہ میں پانی کا ذخیرہ 15 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔انہوں نے بتایا کہ تربیلا، منگلا اور چشمہ میں پانی کا مجموعی ذخیرہ ایک لاکھ 2 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ 

ترجمان کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 22 ہزار 200 جبکہ اخراج 20 ہزار کیوسک ہے جبکہ منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 19 ہزار 900، اخراج 28 ہزار کیوسک ہے۔  چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 38 ہزار 400 جبکہ اخراج 27 ہزار کیوسک ہے، جبکہ ہیڈ مرالہ دریائے چناب میں پانی کی آمد 10 ہزار 800، اخراج 6 ہزار 100 کیوسک ہے۔ نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 14 ہزار 300، اخراج 14 ہزار 300 کیوسک ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے مقدمات میں ضمانت کا معاملہ، سماعت 18 مارچ کو ہوگی

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: میں پانی کی ا مد میں پانی کا تربیلا ڈیم کہ منگلا ڈیڈ لیول کیوسک ہے

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت غیر ضروری وزارتیں اور محکمے ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کر سکتی ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ وفاق آئین کے مطابق محدود دائرۂ اختیار میں کام کرے اور اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

سینیٹرضمیر حسین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی صوبوں کو منتقلی، وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو اور آئینی اداروں کی فعالیت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران ارکان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو غیر ضروری وزارتوں اور اداروں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کو آئینی تقاضوں کے مطابق فعال بنایا جائے اور اس کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔

سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، جبکہ آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی وزارتوں اور اخراجات کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

اجلاس میں سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ تقریباً 3 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کا تیل نکلتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا بھی تیل و گیس کی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتا ہے، تاہم تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو گزشتہ 16 برس سے ان کا آئینی حق نہیں دیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کی مد میں واجب الادا رقوم کیوں ادا نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا آئین اور بہتر طرزِ حکمرانی کے منافی ہے۔

اجلاس کے دوران وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ کمیٹی کو آئین کے آرٹیکل 38(جی) سے متعلق بھی رپورٹ پیش کی گئی۔

کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تیل و گیس سے حاصل ہونے والی آمدن اور اس کی تقسیم کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ، وفاقی نظام کے استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ غیر ضروری سرکاری اخراجات اور ڈپلیکیٹ محکموں کا جامع جائزہ لے کر قومی وسائل کی بچت کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا
  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا