انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے مقابلے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی بڑھتی مقبولت پر فاسٹ بولر حسن علی کا بیان بھارتی میڈیا کو آگ لگا گیا۔

قومی ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو آئی پی ایل سے زیادہ توجہ مل رہی ہے اور شائقین زیادہ پسند کرتے ہیں، جس پر بھارتی میڈیا آگ بگولہ ہوگیا۔

فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل صرف ایک کرکٹ لیگ نہیں، یہ جذبات، محبت اور جنون تک پہنچ گئی ہے، ہمارے شائقین کا جوش دیکھ کر مجھے یقین ہے کہ آنے والے سالوں میں پی ایس ایل کی مقبولیت آئی پی ایل سے بھی آگے نکل جائے گی۔

مزید پڑھیں: سلمان بٹ کو کمنٹری پینل کا حصہ کیوں بنایا؟ فرنچائزز ناخوش

حسن علی کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دنیا کے بہترین کھلاڑی آتے ہیں، میچز کا معیار بہترین ہوتا ہے جبکہ شائقین کرکٹ کی بڑھتی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ آئی پی ایل کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل10؛ میچز کہاں اور کیسے دیکھے جاسکیں گے؟

ادھر فاسٹ بولر حسن علی کے بیان پر بھارتی میڈیا نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھارتی فینز کرکٹر کا مذاق اڑانے کی کوشش کررہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل پی ایس ایل فاسٹ بولر حسن علی

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد