کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی سیزن 2 میں سمرتی ایرانی کی واپسی تصدیق ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
بالی ووڈ کی معروف ڈرامہ پروڈیوسر ایکتا کپور نے اپنے مشہور ڈرامے ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ کے دوسرے سیزن میں سمرتی ایرانی کی واپسی کی تصدیق کردی۔
ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایکتا کپور نے اپنے کلٹ شو ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ سمرتی ایرانی کی واپسی کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
بھارتی پروڈیوسر نے نہ صرف شو کی واپسی کے بارے میں خبروں کی تصدیق کی بلکہ یہ بھی انکشاف کیا کہ دوسرا سیزن 150 اقساط پر مشتمل ہوگا۔ اس کے پیچھے کی وجہ بتاتے ہوئے، ایکتا نے انکشاف کیا کہ جب اصل ٹی وی شو ختم ہوا تو 2000 ایپی سوڈ تک پہنچنے میں 150 ایپی سوڈ کم تھے۔
View this post on InstagramA post shared by BollywoodShaadis.
یہی نہیں ایکتا کپور نے مزید انکشاف کیا کہ اس ریبوٹ میں ایک سیاست دان ہوگا، اس شو میں سمرتی ایرانی کی ’تلسی ویرانی‘ کے طور پر واپسی کا اشارہ دیتے ہوئے ایکتا نے کہا: ’ہم سیاست کو تفریح میں لا رہے ہیں، یا یہ کہنا بہتر ہوگا، ایک سیاستدان کو انٹرٹینمنٹ میں لارہے ہیں‘۔
View this post on InstagramA post shared by Smriti Irani (@smritiiraniofficial)
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سمرتی ایرانی کی کی واپسی
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔