وزیراعظم اگلے کچھ ماہ میں مزید ریلیف کا اعلان کریں گے: وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
وزیراعظم اگلے کچھ ماہ میں مزید ریلیف کا اعلان کریں گے: وزیر خزانہ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 April, 2025 سب نیوز
لاہور: وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کی جانب سے آئندہ چند ماہ میں خوشخبریوں کی نوید سنادی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ چیمبرز کے مسائل کا ادراک ہے، مشکلات حل کرنے کی کوشش کریں گے، چیمبرز کے جائز مطالبات کو مانا جائے گا، تاجروں کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا انڈسٹری کو درپیش مسائل کا جائزہ لے رہے ہیں، صنعت کی ترقی ملکی ترقی کا باعث ہے، ہمیں صنعتی ترقی کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا، ملک میں معاشی استحکام کے لیے کام کر رہے ہیں، معاشی استحکام کیلئے اپنی درست سمت کا تعین کرنا ضروری ہوتا ہے، سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی ہو رہی ہے، شرح سود 22 فیصد سے 12 فیصد ہو چکی ہے، پالیسی ریٹ میں کمی سے کاروبار میں استحکام آرہا ہے، ہمارا اصل مقصد عام آدمی کو فائدہ پہنچانا ہے، ہم درست سمت کی جانب گامزن ہیں لیکن ہر سیکٹر کو برآمدات کرنا ہوں گی، ہمیں اپنی برآمدات میں اضافے کے لیے کام کرنا ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا معاشی استحکام کیلئے مہنگائی کا کم ہونا لازمی تھا، ہر ہفتے اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، ہم روز کی بنیاد پر دالوں ، چینی اور دیگر اشیا کی قیمتوں کو دیکھ رہے ہیں، افراط زر نیچے آنے کا فائدہ عام آدمی کو ہونا چاہیے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ اوپر نیچے ہوتی رہے گی، اسٹاک مارکیٹ اوپر نیچے ہونے میں کچھ وجوہات بیرونی ہیں، ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم صحیح سمت میں چل رہے ہیں یا نہیں؟
ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا ریکوڈک ایک اہم پروجیکٹ ہے، 2028کے بعد ہماری ایکسپورٹ میں اضافہ ہو گا، بلوچستان میں ریکوڈک پروجیکٹ ہمارا خواب ہے، انڈونیشیا میں پچھلے سال نِکل کی ایکسپورٹ 22 بلین ڈالر رہی، 2028 کے بعد ہماری ایکسپورٹ میں اضافہ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم رشوت لے رہے ہیں تو کوئی ہمیں رشوت دے بھی رہا ہے، آپ سے درخواست ہے کہ آپ رشوت دینا بند کر دیں، وزیر اعظم اس ہم مسئلے پر سنجیدہ ہیں، حوصلہ کریں اور رشوت خوروں کی باتوں میں نہ آئیں، کسٹمز میں فیس لیس ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی، مقصد ہے چوری یا رشوت بازاری نہ ہو سکے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقہ اپنے گوشوارے اب خود بھر سکتا ہے، نتخواہ دار طبقے پر ٹیکس کو بخوبی سمجھتا ہوں، ایسا طبقہ جس کی جائیداد یہاں ہے نہ وہاں اس کو بھی پیچیدہ ٹیکس نظام میں الجھایا ہوا ہے، ٹیکس نظام کو انتہائی سادہ بنانے جا رہے ہیں، اگلے کچھ ماہ میں وزیر اعظم مزید ریلیف کا اعلان کریں گے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا 800 سے ایک ٹریلین ڈالر کا ہر سال نقصان ہوتا ہے، ہم ایف بی آر میں صاف ستھرے لوگ لے کر آرہے ہیں، ہم ایف بی آر میں فارم کو 25 چیزوں پر لے کر جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے یورپی روٹ کھل گئے ہیں، امید ہے انگلینڈ کے روٹس بھی کھل جائیں گے، دیہات میں ہماری آبادی زیادہ بڑھ رہی ہے ، آج ملک کو مشکلات درپیش ہیں، سوچیے آبادی بڑھی تو کیا حشر ہو گا؟ ہمارے ملک میں 5 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اسکولوں سے باہر رہنے والے بچوں میں بچیوں کی تعداد زیادہ ہے، ہمیں پارلیمنٹ اور سب کے ساتھ مل کر ان معاملات سے نمٹنا ہے۔
ان کا کہنا تھا اکتوبر سے فروری تک لاہور میں ماحول کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہو گیا ہے، بیجنگ میں کبھی سلفر کی بو ہوتی تھی، اب مطلع صاف ہے، یہ تمام پاکستان کے لیے اہم معاملات ہیں ان سے نبردآزما ہونا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب کا کہنا تھا نے کہا کہ رہے ہیں ماہ میں کریں گے
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔