بڑی خبر! مزید یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے کا فیصلہ ، کن ملازمین کو فارغ کیا جائے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
رواں مالی سال کے اختتام تک مزید ایک ہزار یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے کا فیصلہ کرلیا،کن ملازمین کو فارغ کیا جائے گا؟
تفصیلات کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز کے نئے آپریشنز بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، دستاویز میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک مزید ایک ہزار یوٹیلیٹی اسٹوروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یوٹیلیٹی اسٹورز میں کام کرنیوالے ڈیلی ملازمین کو بھی نوکری سے فارغ کیا جائے گا، مجموعی طور پر5500 میں سے 1500 یوٹیلیٹی اسٹور باقی رہ جائیں گے۔
مالیاتی لحاظ سے باقی رہ جانے والے یوٹیلیٹی اسٹوروں کی نجکاری کی جائے گی، ابھی تک 2237 ملازمین کو نوکری سے نکالا جاچکا ہے۔حکام مالیاتی لحاظ سے کمزور ایک ہزار یوٹیلیٹی اسٹورز کو مزید بند کرنا ہے، اسٹورز کو گزشتہ مالی سال 38 ارب روپے کی سبسڈی ملی تھی اور رواں مالی سال کیلئے مختص 60 ارب کی سبسڈی نہیں ملی۔
یاد رہے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اسٹوروں کی بندش کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا اسٹوروں سے 16 ہزار ملازمین کے خاندان کا روزگار وابستہ ہے۔واضح رہے اخراجات میں کمی کیلئے ملک بھر میں 446 یوٹیلیٹی اسٹوروں کو بند کر دیا گیا تھا ذرائع نے بتایا تھا کہ مزید 500 سے زائد اسٹوروں کو بند کرنے کا پلان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بند کرنے کا فیصلہ یوٹیلیٹی اسٹورز ملازمین کو مالی سال
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔