پاکستان میں بیٹری سے سستی الیکٹرک بائیک متعارف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
لاہور(اوصاف نیوز)بائیک کمپنی ’براقی وہیکلز‘ نے ایک نئی الیکٹرک موٹر سائیکل متعارف کرائی ہے جو اپنی بیٹری سے بھی سستی ہے۔
براقی وہیکلز ایک چارج پر 500 کلومیٹر کا سفر طے کر سکتی ہے۔
یہ موٹر سائیکل پاکستان میں ڈیزائن اور اسمبل کی گئی ہے، جس سے اس کی آپریٹنگ لاگت کم ہوتی ہے اور مقامی کاروباری افراد کے لیے ملک بھر میں ڈیلرشپ کا ایک اچھا موقع فراہم کرے گی۔
مذکورہ موٹر سائیکل 2kW موٹر اور ایک بڑی 10.
ڈیزائن اور مقامی مینوفیکچرنگ
موٹرسائیکل کا الیکٹرانکس اور چارجنگ پورٹ ایک کمپیکٹ اور پائیدار ڈیزائن کے لیے ٹینک کے اندر نصب کیا گیا ہے۔ مقامی سطح پر تعمیر ہونے کے باعث اس موٹرسائیکل کے پارٹس باآسانی دستیاب ہوں گے جن کی لاگت بھی کم ہوگی۔
موٹرسائیکل کی کارکردگی
موٹر سائیکل کی زیادہ سے زیادہ رفتار 85 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، مگر صارفین اسے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد تک لے جا سکتے ہیں۔ اس میں چار سواری کے موڈز، ایک ریورس گیئر، اور دونوں پہیوں پر ڈسک بریکس ہیں۔ ایک مکمل چارج میں صرف 11.23 یونٹ بجلی استعمال ہوتی ہے، جس کی قیمت تقریباً 450-500 روپے آتی ہے، جو ایندھن سے چلنے والی سواریوں کی نسبت ایک سستی آپشن ہے۔
قیمت اور رینج
براقی وہیکلز کا ٹاپ ماڈل 6 لاکھ 40 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ حیران کن طور پر، صرف بیٹری کی قیمت سولر مارکیٹ میں تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار روپے تک ہے۔ کمپنی مختلف راہ چلنے والوں کی ضروریات کے مطابق 11 مختلف ماڈلز بھی پیش کرتی ہے، جن کی قیمت 2 لاکھ 30 ہزار روپے سے شروع ہوتی ہے
بھارت نیا عالمی تنازعہ کھڑا نہ کرے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا مودی کو انتباہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر