پوٹن کی طرف سے تین روزہ جنگ بندی ایک ’کھیل‘ ہے، زیلنسکی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 مئی 2025ء) یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جمعے کو چند صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت میں کہا، ''یہ ان (روس) کی طرف سے ایک ڈرامائی کارکردگی ہے۔‘‘ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین '' نو مئی کو پوٹن کی طرف سے اپنی تنہائی ختم کرنے کے لیے خوشگوار ماحول بنانے کے کھیل‘‘ میں حصہ نہیں لے گا۔
نو مئی کو کچھ غیر ملکی رہنما روس میں دوسری عالمی جنگ کے حوالے سے ہونے والی ایک یادگاری تقریبات میں حصہ لینے کے لیے ماسکو جائیں گے۔
یوکرین میں روس کی تین روزہ جنگ بندی کی تجویز کو اس کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ تعطیل کے دوران یوکرین ماسکو میں کوئی حملہ نہ کرے۔
نو مئی کو ماسکو میں ریڈ اسکوائر پر ایک عظیم الشان فوجی پریڈ ہوتی ہے اور روسی رہنما قوم سے خطاب کرتے ہیں۔
(جاری ہے)
یاد رہے کہ روس نے اب تک کییف اور واشنگٹن کی طرف سے تجویز کردہ 30 روزہ غیر مشروط جنگ بندی کو مسترد کر رکھا ہے۔ سالانہ تقریب میں کون کون شریک ہو گا؟روسی صدر دفتر کریملن کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ سمیت تقریباً 20 ممالک کے رہنماؤں نے رواں سال کی تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کی ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ کچھ ممالک نے کییف سے رابطہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ روس جا رہے ہیں اور انہوں نے تحفظ کی درخواست بھی کی ہے۔
اس تناظر میں زیلنسکی نے جواب دیا، '' نو مئی کو روس جانے والے تمام ممالک کے لیے ہماری پوزیشن بہت سادہ ہے، ہم روس کی سرزمین پر ہونے والے واقعات کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔‘‘زیلنسکی نے کہا، ''روس خود اپنی طرف سے مختلف اقدامات کر سکتا ہے، جیسے آگ زنی، دھماکے اور پھر ہمیں موردِ الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔‘‘
روسی حکام نے اس موقع کے لیے بڑے پیمانے پر جشن کا وعدہ کیا ہے، جس کے دوران پوٹن یوکرین میں لڑنے والے اپنے فوجیوں کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
روسی فوجیں کئی محاذوں پر مشکل سے پیش قدمی کر رہی ہیں جبکہ ماسکو اور کییف نے اپنے فضائی حملوں میں اضافہ کر رکھا ہے۔
دریں اثنا روس نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ صدر پوٹن کی طرف سے تین روزہ جنگ بندی کا مقصد صرف یہ جانچنا ہے کہ آیا یوکرین ''روس کے ساتھ امن‘‘ کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسے جنگ بندی کے حوالے سے پیش رفت نظر نہ آئی تو وہ مذاکرات کی کوششوں کو ترک کر سکتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ واشنگٹن ''تین دن کے وقفے کے بجائے، جس میں آپ کچھ اور منائیں، ایک مکمل اور پائیدار جنگ بندی اور اس تنازعے کے خاتمے‘‘ کا خواہش مند ہے۔ بروس نے کہا کہ یہ فیصلہ بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر منحصر ہے کہ وہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھائیں۔
ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی پالیسی شروع کی، جس کا نتیجہ 28 فروری کو وائٹ ہاؤس میں زیلنسکی کے ساتھ ایک عوامی تنازع کی شکل میں نکلا، جہاں دونوں رہنما یوکرین کے معدنی وسائل تک امریکی رسائی کے بدلے ''یوکرین کے تحفظ کے معاہدے‘‘ پر دستخط کرنے والے تھے۔
یوکرین نے اس کے بعد معاہدے پر نظرثانی کی، جس کے تحت واشنگٹن اور کییف یوکرین کے اہم معدنی وسائل پر مشترکہ سرمایہ کاری کریں گے۔
زیلنسکی نے جمعہ کو کہا کہ یہ معاہدہ دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند ہے اور یوکرین کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے، حالانکہ اس معاہدے میں کییف کے لیے کوئی ٹھوس سکیورٹی ضمانتیں شامل نہیں ہیں۔ یہ بیان اپریل کے آخر میں ویٹی کن میں پوپ فرانسس کے جنازے سے قبل ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد آیا، جو ان کی واشنگٹن میں 'تلخ بحث‘ کے بعد پہلی ملاقات تھی۔
زیلنسکی نے جمعہ کو کہا، ''یہ ہماری اب تک کی تمام بات چیت میں سب سے بہترین تھی۔ مجھے یقین ہے کہ ویٹی کن میں ہماری ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے چیزوں کو کچھ مختلف انداز سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔‘‘ادارت: عاطف بلوچ
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے زیلنسکی نے یوکرین کے نو مئی کو کی طرف سے نے کہا کہ کے ساتھ کے بعد کے لیے
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم