صیہونی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم کے ارتکاب پر عالمی عدالت کو مطلوب قابض صیہونی وزیراعظم کو امریکہ کیجانب سے روس کیلئے ثالث مقرر کر دیا گیا ہے اسلام ٹائمز۔ قابض اسرائیلی رژیم کے عبرانی میڈیا نے مطلوب جنگی مجرم بنجمن نیتن یاہو کے قریبی ذرائع سے نقل کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ و روس کے درمیان حالیہ "لفظی کشیدگی" کے بعد انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے، اپنے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ثالثی کی ذمہ داری "نیتن یاہو" کو سونپی گئی ہے۔ صیہونی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا کہ جب امریکہ و روس کے درمیان وجود میں آنے والی لفظی کشیدگی، مبینہ طور پر، جوہری خطرات اور امریکی جوہری آبدوزوں کی تعیناتی کی سطح تک جا پہنچی تھی۔ صیہونی میڈیا کے ساتھ گفتگو میں اسرائیلی ذرائع نے یہ دعوی بھی کیا کہ نیتن یاہو کے دفتر نے حالیہ ہفتوں کے دوران روسی فریق کے ساتھ مختصر تعامل بھی کیا ہے جبکہ ان مشاورتوں کا مقصد، واشنگٹن و ماسکو کے درمیان تناؤ کو کم کرنے سمیت کئی ایک مسائل کو حل کرنا تھا۔

واضح رہے کہ انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر حالیہ تنقید اور یوکرین میں جنگ کے تسلسل پر مایوسی کے اظہار کے بعد یہ کشیدگی مزید شدت اختیار کر چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے درمیان

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت