حرام جانوروں اور مردار مرغیوں کا گوشت بیچنے اور کھانے والے مسلمان
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
حرام جانوروں اور مردار مرغیوں کا گوشت بیچنے اور کھانے والے مسلمان WhatsAppFacebookTwitter 0 5 August, 2025 سب نیوز
تحریر: آصف محمود وینس
پاکستان میں ھر کوئی آگاہ ھے کہ گدھے اور کتے کے گوشت کھلانے کے واقعات لاھور سے شروع ھوکر پنڈی ، اسلام آباد اور پھر کاغان ، ناران تک سنے گئے ھیں ۔ بدقسمتی کی بات ھے کہ یہ سب کچھ اسلام کے نام پہ بننے والے ایک مسلمان ملک پاکستان میں ھو رھا ھے جس کی اکثریت کلمہ گو اور اسلامی تعلیمات پہ عمل کرنے کی دعویدار اور ھر دم اسلام کے نام پہ مر مٹنے کو تیار رھتی ھے۔ 3 اگست 2025 کو اتوار کی چھٹی تھی ۔ ایک کام کے سلسلہ میں بہار شاہ پولیس چوکی ،رائے ونڈ روڈ میں کچھ وقت گزارنے کا اتفاق ھوا۔ ھمارے دیکھتے ھی دیکھتے وھاں پہلے ایک مزدا ٹرک آیا جس کی جنگلے کی چھت مری ھوئی مرغیوں سے بھری ہوئی تھی پھر اس کے بعد ایک رکشہ پہنچا جس کے اندر ایک بوری مردہ مرغیوں سے بھری ہوئی تھی۔
ظاھر ھے یہ سب مردہ مرغیاں اھل لاھور کی تواضع طبع کے لئے لائی گئی تھیں جو کہ پولیس اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ھتھے چڑھ گئیں وگرنہ انہیں اچھے پکوانوں کے دلدادہ لاہوریوں کے پیٹ میں جانے سے کون روک سکتا تھا۔ اس واقعہ کا یہ پہلو خوش آئند ھے کہ محرر پولیس چوکی کہہ رھے تھے کہ یہ سب قانونی کاروائی ایک عام شہری کی گمنام شکایت پہ عمل میں آئی ھے۔ اب پولیس اور پنجاب فوڈ اتھارٹی مجرمان کے خلاف قانونی کاروائی کر رھے ھیں۔چوکی پولیس محرر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر عوام اسطرح اپنے علم میں آئے گئے جرائم کی اطلاع پولیس کو دیتے رھیں تو جرم پہ قابو پانا آسان ھو جاھے گا اور مجرم کیفرکردار تک پہنچیں گے ۔ یہ تو لاھور میں واقع ایک چھوٹی سی پولیس چوکی کی ایک محدود وقت کی روداد ھے۔ لاھور بہت بڑی آبادی والا شہر ھے۔ لاھور میں آنے کے بہت سے راستے ھیں ۔
خدا جانے ھر آنیوالے راستے سے ھر روز لاھور کیا کیا پہنچ کر یہاں کے باسیوں کی صحت اور زندگیوں کے لے خطرہ بن رھا ھے ؟ مردہ مرغیوں اور ناقص دودھ کی شکایات تو عام ھیں۔ ان میں باھر سے مزےدار کڑاہی گوشت ، برگر اور شوارما کھانے والوں کے لئے بھی تنبیہ ھے کہ وہ کھانے سے پہلے یقین کر لیں کہ کیا کھارھے ھیں اور مرغی کا گوشت لینے والے تعین کر لیا کریں کہ مرغیاں زندہ ھیں اور آپنے سامنے کھڑے ھو کر ذبح کروائیں اور تکبیر بھی پڑھائیں کیوں کہ مشتری ھوشیار باش ھونا چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپھوپھیاں نکل آئیں، بیگم نکل آئی، اب بچے آگئے تو کیا کرلیں گے، طلال چوہدری کا پی ٹی آئی کو پیغام “کلاؤڈ برسٹ کوئی آسمانی آفت یا ماحولیاتی انتباہ” بوسنیا، غزہ، اور ضمیر کی موت “کلاؤڈ برسٹ کوئی آسمانی آفت یا ماحولیاتی انتباہ” آبادی اور ماحولیاتی آلودگی حلال اور حرام کے درمیان ختم ہونے والی لکیر تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی مافیا کے خلاف بلا امتیاز کاروائیاںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔