لاہور کے بعد گجرانوالہ، گجرات، چکوال اور گھوٹکی میں بھی بھارتی ڈرون مار گرائے۔
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
لاہور کے بعد گجرانوالہ، گجرات، چکوال اور گھوٹکی میں بھی بھارتی ڈرون مار گرائے گئے۔زرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے لاہور میں والٹن کے علاقے میں اہم سکیورٹی ادارے کے دفتر کو ڈرون کی مدد سے اڑانے کی ناکام کوشش کی گئی، ڈرون کو قریب آتے دیکھ کر سکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کی۔ 5 سے 6 فٹ کی پیمائش کا ڈرون سرحد پار سے آپریٹ کیا جا رہا تھا، ڈرون کو سسٹم جام کر کے گرا دیا گیا۔ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی شخص زخمی ہوا، تاہم عمارت کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے، واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ لاہور کے بعد گجرانوالہ، گجرات، چکوال اور گھوٹکی بھی بھارتی ڈرون مار گرائے گئے۔پولیس کے مطابق گوجرانوالہ میں ناکارہ بنائے جانے والے انڈین ڈرون کا ملبہ سولکھن آباد سے مل گیا، سکیورٹی حکام نے ڈرون کے ملبے کو قبضے میں لے لیا، علی الصبح ائیر ڈیفنس سسٹم نے بھارتی ڈرون کو مار گرایا تھا۔چکوال میں تھانہ ڈوھمن کی حدود میں دیوالیاں کے قریب ڈرون گر گیا، ڈرون گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ڈرون کا ملبہ قبضے میں لے لیا گیا ہے تحقیقات جاری ہیں۔گجرات کے نواحی علاقہ پیر جنڈ میں ڈرون کے 4 ٹکڑے مل گئے، قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے چاروں ٹکرے تحویل میں لے لیے۔ عینی شاہدین کے مطابق رات گئے اچانک دھماکوں کی آواز سنی گئی، ابھی تک کسی بھی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔دوسری جانب سندھ کے شہر گھوٹکی میں پاک بھارت سرحدی علاقے کھینجو میں ڈرون گر گیا، ڈرون گرنے سے ایک شہری جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بھارتی ڈرون کے بعد
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔