تباہ ہونے والا روسی خلائی جہاز زمین پر کس دن گرے گا، کون سے ممالک خطرے میں؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
گزشتہ نصف صدی سے مدار میں پھنسے رہنے والے سوویت دور کے خلائی جہاز کا ایک حصہ اس ہفتے زمین پر گرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا اور روس کے خلاباز خلا میں 220 دن گزارنے کے بعد زمین کی طرف واپس روانہ
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ناسا کا کہنا ہے کہ کوسموس 482 کو سنہ 1972 میں زہرہ کے مشن کے حصے کے طور پر لانچ کیا گیا تھا لیکن یہ کبھی بھی زمین کے نچلے مدار سے نہیں بچ سکا اور 4 ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔
ناسا نے کہا کہ ان میں سے ایک وزنی ٹکڑے کے 10 مئی کو ہماری فضا میں دوبارہ داخل ہونے کا امکان ہے اور اس کا کم از کم کچھ حصہ جلے بغیر صحیح سالم حالت میں زمین پر گرے گا۔
ابھی یہ کہنا ممکن نہیں کہ خلائی جہاز کا وہ حصہ زمین پر کس جگہ گرے گا لیکن چوں کہ ہمارے سیارے کا 70 فیصد حصہ سمندر سے ڈھکا ہوا ہے لہذا اس سے کوئی خاص نقصان پہنچنے کا امکان نہیں ہے۔
مزید پڑھیے: خلا میں 9 ماہ تک پھنسے رہنے والے خلابازوں کو کتنا معاوضہ ملے گا؟
یورپی خلائی ایجنسی میں خلائی ملبے کی تخفیف کے سینئر تجزیہ کار اسٹیجن لیمنس کا کہنا ہے کہ آپ کے کسی خلائی ملبے سے متاثر ہونے کا امکان آپ کے کسی لاٹری جیتنے کے امکان سے بہت زیادہ کم ہوتا ہے۔
خلائی جہاز کا جو حصہ زمین کی جانب گامزن ہے وہ بہت سخت، سلنڈر نما شے ہے۔ اس کی چوڑائی ایک میٹر اور اس کا وزن تقریباً آدھا ٹن ہے۔
اسے زہرہ کے ماحول کی شدید گرمی اور دباؤ سے بچنے کے لیے بنایا گیا تھا یعنی یہ گرمی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال رکھتا ہے اس کی ساخت انتہائی پائیدار ہے۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ گو زمین پر موجود لوگوں کے لیے اس سے خطرہ کم ہے لیکن یہ شمالی اور جنوبی عرض البلد کے درمیان کہیں بھی اترسکتا ہے جہاں کے زیادہ تر حصے آباد ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ممکنہ طور پر یہ لندن کے شمال سے لے کر جنوبی امریکا کے جنوبی سرے تک کہیں بھی اتر سکتا ہے۔
خلائی ملبے کے بے قابو ہونے کے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک کے ’اسٹار شپ‘ کے خلا میں تباہ ہونے کی ویڈیو وائرل
لیمنس نے وضاحت کی کہ زمین کے ماحول میں انسانی ساختہ اشیا کا دوبارہ داخلہ اکثر ہوتا ہے اور بڑے خلائی جہازوں کے لیے ہفتہ وار اور چھوٹے کے کیس میں تو روزانہ ہی ہوتا ہے۔ تاہم اشیا عام طور پر زمین تک پہنچنے سے پہلے زمین کی فضا میں ہی جل جاتی ہیں۔
یہ خلائی جہاز اب بین الاقوامی خلائی ایجنسیوں کے ذریعے قریب سے ٹریک کیا جا رہا ہے۔
لیمنس نے کہا کہ مستقبل میں خلائی جہاز کو اس طرح ڈیزائن کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو مدار سے محفوظ طریقے سے باہر لے جاسکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خلائی جہاز زمین پر روسی خلائی جہاز کوسموس 482.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خلائی جہاز زمین پر روسی خلائی جہاز کوسموس 482 خلائی جہاز کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین