وہ لمحہ جب پاکستان کے بہادر شاہین دشمن کی سرزمین پر وار کرنے نکلے
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
قسم وفا کی… پرواز شہادت کی…
یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستان کے بہادر شاہین دشمن کی سرزمین پر وار کرنے نکلے۔
ہر ایک پائلٹ نے دشمن پر حملے سے پہلے اپنے ہاتھوں سے وصیت پر دستخط کیے۔
نہ جھجک، نہ خوف… صرف ایک دعا:
”یا اللہ، وطن کی عزت سلامت رکھنا… اگر ہم واپس نہ آئیں تو ہماری لاشیں پرچم میں لپٹی ہوں!“
لیکن ربِ ذوالجلال کی مدد شاملِ حال رہی۔
الحمدللہ، پاک فضائیہ کے تمام شاہین کامیاب مشن مکمل کر کے پٹھان کوٹ، بھٹنڈہ اور سسرام کے ایئربیسز کو تباہ کرنے کے بعد محفوظ واپس لوٹ آئے۔
یہ ہے پاکستانی پائلٹ — جو مرنے کے بعد جینا جانتے ہیں… اور جو وطن کی فضاؤں پر آنچ نہیں آنے دیتے!
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔