پشاور میں ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز اُڑانے پر پابندی، دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
پشاور انتظامیہ نے شہر میں ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز اڑانے پر مکمل پابندی عائر کرکے دفعہ 144 نافذ کردیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال، عوامی تحفظ اور اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی جارحیت کے تناظر میں شہری دفاع اور عوامی آگاہی کے لیے اہم فیصلے
اعلامیے کے مطابق پابندی کا اطلاق سیکشن 144 CrPC کے تحت فوری طور پر کر دیا گیا ہے جس کی خلاف ورزی کی صورت میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی ہوگی۔
ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ پشاور میں یہ پابندی 30 دن کے لیے نافذ العمل ہوگی اور شہریوں سے گزارش کی ہے کہ وہ کسی مشکوک حرکت اور خلاف ورزی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امن انتظامیہ پشاور دفعہ 144 ڈرونز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتظامیہ پشاور کے لیے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔