بھارت کی ہٹ دھرمی، پاکستان کا پانی روکنے کے نئے منصوبوں پر غور
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار ہے اور جنگ میں شکست کے باوجود وہ پاکستان کا پانی روکنے کے نئے منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے متعلقہ حکام کو دریائے چناب، دریائے جہلم اور دریائے سندھ پر نئے منصوبوں کی تعمیر کی منصوبہ بندی تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مودی سرکار کے منصوبوں میں دریائے چناپ پر رنبیر نہر کی لمبائی کو 120 کلو میٹر تک دگنا کرنا بھی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس نہر کی نہر کی توسیع کے بعد 150 کیوبک فی سیکنڈ پانی کو موڑا جا سکے گا۔
رپورٹ کے مطابق اس نہر کی توسیع کے حوالے سے بات چیت گزشتہ ماہ شروع ہوئی جو جنگ بندی کے بعد بھی جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نہر کی توسیع میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔