آئی ایم ایف کی 11 شرائط میں کچھ نیا نہیں، وزارت خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
وزارت خزانہ نے وضاحت کی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت متعارف کرائی گئی 11 نئی شرائط دراصل پہلے سے طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے کا تسلسل ہیں۔
پیر کے روز جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ شرائط نئی نہیں، بلکہ پہلے سے طے شدہ اصلاحاتی عمل کا حصہ ہیں، جن کا مقصد معیشت میں استحکام اور ترقیاتی اہداف کا حصول ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق، ان میں بعض بینچ مارکس جیسے سود سے پاک معیشت کی منتقلی اور قرضوں کی ادائیگی پر سرچارج، اکتوبر 2024 میں منظور ہونے والی 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد شامل کیے گئے ہیں۔
یہ اصلاحات ستمبر 2024 میں آئی ایم ایف کے ساتھ اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کے میمورنڈم (MEFP) کی منظوری کے بعد سامنے آئیں۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کی اگلی اقساط کیلئے شرائط مزید سخت کردیں
وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے جمعیت علمائے اسلام کی حمایت کے بدلے آئین میں تبدیلی کی تاکہ سود پر مبنی نظام کا خاتمہ کیا جا سکے۔آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق، 2027 کے بعد مالیاتی نظام کی حکمت عملی واضح کی جائے گی جس کا مقصد مارکیٹ کے شرکاء کو تیاری کا موقع فراہم کرنا اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا کہ اس حکمت عملی کو 2028 تک مکمل کیا جائے گا، جس سے بینکاری نگرانی اور مانیٹری پالیسی کے نفاذ پر اثرات مرتب ہوں گے۔
وزارت خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 2026 کے بجٹ کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف سے مشاورت کوئی نئی شرط نہیں ہے۔ اسی طرح زرعی آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے کے اقدامات بھی ستمبر 2024 کے MEFP میں واضح کیے گئے تھے۔
مزید پڑھیں: حکومت کی آئی ایم ایف کو نان فائلرز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی یقین دہانی
وزارت کے مطابق، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی منتقلی، گورننس اصلاحات، کیپٹیو پاور لیوی کا مستقل قانون اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ جیسے اقدامات بھی پہلے سے طے شدہ پالیسیوں کا تسلسل ہیں۔
وزارت نے مزید کہا کہ قرض سروس سرچارج کی حد ختم کرنے کا اقدام بھی حکومت کے نئے منصوبے کا حصہ ہے۔ مزید برآں، خصوصی زونز کے مراعات کا خاتمہ اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندیوں میں نرمی جیسے اقدامات بھی عالمی تجارت میں انضمام کی حکومتی پالیسی کا تسلسل ہیں۔
وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ یہ تمام اقدامات پاکستان کی معیشت میں استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہیں اور ان کا مقصد ملک کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کے مطابق
پڑھیں:
پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سری لنکا نے پاکستانی شہریوں کیلئے اہم سہولت کا اعلان کرتے ہوئے ویزا فیس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
سری لنکا کے قونصل جنرل سنجیوا پٹیوالا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سری لنکن حکومت نے پاکستانیوں کیلئے ویزا فیس ختم کر دی، اور آن لائن ویزا درخواستوں پر عموماً 48 گھنٹوں کے اندر فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران تقریباً 30 ہزار پاکستانی سیاحوں کی سری لنکا آمد متوقع ہے، جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 20 ہزار کے قریب تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ویزا فیس کے خاتمے کے بعد نہ صرف سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ پاکستانی جوڑے بھی اپنی شادی کی تقریبات کیلئے سری لنکا کا رخ کر رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط مزید مضبوط ہو رہے ہیں
قونصل جنرل نے تعلیمی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 100 سری لنکن طلبہ کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اسکالرشپس فراہم کی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعلقات کے فروغ کی ایک اہم مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 2005 میں آزاد تجارتی معاہدہ (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) طے پایا تھا، تاہم اب بھی بعض تجارتی رکاوٹیں موجود ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوطرفہ تجارت کے حجم میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
سنجیوا پٹیوالا کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دفاعی تعلقات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویزا فیس کے خاتمے سے سیاحت، تجارت اور ثقافتی روابط کو نئی تقویت ملنے کا امکان ہے، جس سے دونوں دوست ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
مزید پڑھیں۔’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی