اسرائیل ایرانی جوہری تنصیبات پرحملے کی تیاری کررہا ہے، امریکی حکام
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
امریکی حکام نے کہا ہے کہ انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ اسرائیل ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری کررہا ہے۔
امریکی ٹی وی رپورٹ نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ واضح نہیں کہ اسرائیلی رہنماؤں نے حملے کا حتمی فیصلہ کیا ہے یا نہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسرائیلی حملے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر کیا مذاکرات ہوتے ہیں۔
انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے کا امکان نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کونسل اور اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اس کے علاوہ واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ امریکا سے جوہری مذاکرات کا کوئی نتیجہ نکلنے کا امکان نہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔