300 کاریں، 38 پرائیویٹ جیٹ اور سونے کی 52 کشتیوں کا مالک تھائی لینڈ بادشاہ مہا وجیرالونگ کورن
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
تھائی لینڈ (اوصاف نیوز) تھائی لینڈ کے بادشاہ مہا وجیرالونگ کورن جیسی شاہی زندگی اور بے پناہ جائیداد و ملکیت کم ہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ میں دی بزنس اسٹینڈرڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بادشاہ مہا وجیرالونگ کورن یا کنگ راما X دنیا کے امیر ترین بادشاہ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
بادشاہ مہا وجیرالونگ کے والد نے 70 سال تک بدھ سلطنت پر حکومت کی، وہ دنیا کے سب سے طویل عرصے تک بادشاہت کا تاج پہنے رکھنے والے بادشاہوں میں شامل تھے، ان کا انتقال 88 سال کی عمر میں 2016 میں ہو ا جس کے بعد وجیرالونگ کو مئی 2019 میں تاج پہنایا گیا تھا۔
تصور سے بھی آگے شاندار طرز زندگی اور بے پناہ دولت کے مالک
کنگ وجیرالونگ کی مجموعی دولت کا تخمینہ تقریباً 43 بلین امریکی ڈالر ہے، اس بے پناہ دولت کا بیشتر حصہ انہیں وراثت میں ملا ہے۔
کنگ وجیرا تھائی لینڈ بھر میں ہزاروں ایکڑ اراضی کے مالک ہیں جس میں صرف بنکاک میں موجود 17 ہزار سےزائدجائیدادیں ہیں، کنگ کے پاس 300 سے زیادہ لگژری کاریں ہیں جن میں مرسڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور یہاں تک کہ اسٹریچڈ لیموزین کے ٹاپ ماڈلز بھی شامل ہیں۔
کنگ کی جائیداد کی فہرست یہی ختم نہیں ہوتی بلکہ ان کے پاس 38 پرائیویٹ جیٹ طیار ے اور سونے سے مزین 52 کشتیاں بھی ہیں جنہیں صرف شاہی تقریبات کے دوران استعمال کیا جاتا ہے۔
تھائی لینڈ کے بادشاہ کی تعلیم
کنگ وجیرالونگ نے آسٹریلیا میں یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز سے ملٹری اسٹڈیز میں بیچلر زکی ڈگری حاصل کی ہے، وجیرالونگ نہ صرف علمی طور پر قابل شخصیت ہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ پیشہ ور فوجی بھی ہیں، وہ ایک سرٹیفائیڈ فائٹر جیٹ اور ہیلی کاپٹر پائلٹ ہے، وہ رائل تھائی آرمی میں کل وقتی افسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، کنگ وجیرا لونگ اب تک 4 شادیاں کرچکے ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا عہدہ ملنے پر مبارکباد
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بادشاہ مہا وجیرالونگ تھائی لینڈ
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز