میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سندھ نے کہا کہ لیاقت علی خان کی ملک کے لیے دی گئی قربانیاں اور خدمات ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں، انہوں نے اصولوں، دیانت اور حب الوطنی کی ایسی مثال قائم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ شہید ملت لیاقت علی خان کی برسی کے موقع پر اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے مزارِ قائد پر حاضری دی، شہیدِ ملت کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ان کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور شہیدِ ملت کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ وہاں پر رکھے گئے مہمانوں کی کتاب میں اپنے پیغام قلمبند کئے۔ بعد ازاں علی خورشیدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیاقت علی خان کی ملک کے لیے دی گئی قربانیاں اور خدمات ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں، انہوں نے اصولوں، دیانت اور حب الوطنی کی ایسی مثال قائم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ علی خورشیدی نے کہا کہ نوجوان نسل کو شہیدِ ملت کی زندگی، ان کے عزم، قومی خدمت کے جذبے اور ملک دوستی سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔ اس موقع پر اراکینِ سندھ اسمبلی، تنظیمی ذمہ داران اور دیگر کارکنان بھی موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: لیاقت علی خان کی علی خورشیدی کے لیے

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی