لیاقت علی خان کی برسی کے موقع پر علی خورشیدی کی مزارِ قائد پر حاضری
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سندھ نے کہا کہ لیاقت علی خان کی ملک کے لیے دی گئی قربانیاں اور خدمات ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں، انہوں نے اصولوں، دیانت اور حب الوطنی کی ایسی مثال قائم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ شہید ملت لیاقت علی خان کی برسی کے موقع پر اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے مزارِ قائد پر حاضری دی، شہیدِ ملت کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ان کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور شہیدِ ملت کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ وہاں پر رکھے گئے مہمانوں کی کتاب میں اپنے پیغام قلمبند کئے۔ بعد ازاں علی خورشیدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیاقت علی خان کی ملک کے لیے دی گئی قربانیاں اور خدمات ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں، انہوں نے اصولوں، دیانت اور حب الوطنی کی ایسی مثال قائم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ علی خورشیدی نے کہا کہ نوجوان نسل کو شہیدِ ملت کی زندگی، ان کے عزم، قومی خدمت کے جذبے اور ملک دوستی سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔ اس موقع پر اراکینِ سندھ اسمبلی، تنظیمی ذمہ داران اور دیگر کارکنان بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لیاقت علی خان کی علی خورشیدی کے لیے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔